Brailvi Books

ضیائے صدقات
134 - 408
    صدر الافاضل فرماتے ہیں:راہِ خدا ميں انفاق کا ترک بھی سبب ہلاک ہے اور اسراف بيجا بھی اور اسی طرح اور چيز بھی جو خطرہ و ہلاک کا باعث ہو ان سب سے باز رہنے کا حکم ہے۔۱؎

    اسی طرح راہِ خدا عزوجل ميں صدقہ کرنے والوں کی ايک اور مقام پر تعريف فرمائی گئی:
مَثَلُ الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمْوَالَہُمْ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنۡۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیۡ کُلِّ سُنۡۢبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ ؕ وَاللہُ یُضٰعِفُ لِمَنۡ یَّشَآءُ ؕ الآیۃ
ترجمہ کنزالایمان:ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی راہ ميں خرچ کرتے ہيں اس دانہ کی طرح جس نے اوگائيں سات باليں ہر بال ميں سو دانے اور اللہ اس سے بھی زيادہ بڑھائے جس کے لئے چاہے۔ (البقرۃ:۲/۲۶۱)

    صدر الافاضل مذکورہ آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:خواہ خرچ کرنا واجب ہو يا نفل تمام ابواب خير کو عام ہے خواہ کسی طالبِ علم کو کتاب خريد کردی جائے يا کوئی شفاخانہ بنا ديا جائے يا اموات کے ايصال ثواب کے لئے تيجہ، دسويں، بیسويں، چالیسويں کے طريقہ پر مساکين کو کھانا کھلايا جائے۔۲؎

    صدر الافاضل مزید فرماتے ہیں:اگانے والا حقيقت ميں اللہ ہی ہے دانہ کی طرف اس کی نسبت مجازی ہے۔ مسئلہ:اس سے معلوم ہوا اسناد مجازی جائز ہے جبکہ اسناد کرنے والا غير خدا کو مستقل فی التصرف اعتقاد نہ کرتا ہو اسی لئے يہ کہنا جائز ہے کہ
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎    (خزائن العرفان)

۲؎    (خزائن العرفان)
Flag Counter