| ضیائے صدقات |
ہماری راہ ميں خرچ نہ کرو تو تم نہايت ہی بخيل ہو اور يہ بخل نہايت قبيح۔۱؎
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے صدقات کی مدّ ميں اپنا عزيز مال خرچ کرنے کو بھلائی فرمايا:لَیۡسَ الْبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰکِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الۡاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓءِکَۃِ وَ الْکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ ۚ وَاٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰکِیۡنَ وَ ابْنَ السَّبِیۡلِ ۙ وَالسَّآءِلِیۡنَ وَ فِی الرِّقَابِ ۚ الآیۃ
ترجمہ کنزالایمان:کچھ اصل نيکی يہ نہيں کہ منہ مشرق يا مغرب کی طرف کرو ہاں اصل نيکی يہ ہے کہ ايمان لائے اللہ اور قيامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر اور اللہ کی محبت ميں اپنا عزيز مال دے رشتہ داروں اور يتيموں اور مسکينوں اور راہ گير اور سائلوں کو اور گردنيں چھُڑانے ميں۔ (البقرۃ:۲/۱۷۷)
قرآن مجيد میں راہِ خدا عزوجل ميں خرچ کرنے کاحکم دیا گیا ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے :وَ اَنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ وَلَا تُلْقُوۡا بِاَیۡدِیۡکُمْ اِلَی التَّہۡلُکَۃِ ۚۛ وَاَحْسِنُوۡا ۚۛ اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیۡنَ
ترجمہ کنزالایمان:اور اللہ کی راہ ميں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں ہلاکت ميں نہ پڑو اور بھلائی والے ہوجاؤ بیشک بھلائی والے اللہ کے محبوب ہيں(البقرۃ:۲/۱۹۵)
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (خزائن العرفان)