| ضیائے صدقات |
اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے پاک کلام ميں اپنی راہ ميں صدقہ و خيرات کرنے والوں کو ہدايت يافتہ ہونے کا مژدہ سُنايا ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
فِیۡہِ ۚۛ ہُدًی لِّلْمُتَّقِیۡنَ الَّذِیۡنَ یُؤْمِنُوۡنَ بِالْغَیۡبِ وَیُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ
ترجمہ کنزالایمان: اس ميں ہدايت ہے ڈر والوں کو جو بے ديکھے ايمان لائيں اور نماز قائم رکھيں اور ہماری دی ہوئی روزی ميں سے ہماری راہ ميں اُٹھائيں۔(البقرۃ:۲/۱۔۳)
''ہماری راہ میں اُٹھائیں'' اس کی تفسیر میں صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: راہِ خدا ميں خرچ کرنے سے يا زکوٰۃ مراد ہے، جيسا دوسری جگہ فرمايا:یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤْتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ
يا مطلق اِنفاق خواہ فرض و واجب ہو جيسے زکوٰۃ نذر اپنا اور اپنے اہل کا نفقہ وغيرہ خواہ مستحب جيسے صدقات نافلہ اور اموات کا ايصالِ ثواب۔ مسئلہ: گيارہويں، فاتحہ، تيجہ، چالیسواں بھی اس ميں داخل ہيں کہ وہ سب صدقات نافلہ ہيں اور قرآن پاک وکلمہ شريف کا پڑھنا نيکی کيساتھ اور نيکی ملاکر اجر وثواب بڑھاتا ہے، مسئلہ: مِمَّاميں من تبعيضيہ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ انفاق ميں اسراف ممنوع ہے يعنی انفاق خواہ اپنے نفس پر ہو يا اپنے اہل پر يا کسی اور پر اعتدال کے ساتھ ہو اسراف نہ ہونے پائے۔ رَزَقْنٰھُم ْکی تقديم اور رزق کو اپنی طرف نسبت فرما کر ظاہر فرمايا کہ مال تمہارا پيدا کيا ہوا نہيں ہمارا عطا فرمايا ہوا ہے اسکو اگر ہمارے حکم سے