Brailvi Books

ضیائے صدقات
130 - 408
بخل کا علاج
    امام ابو حامد غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: جان لے کہ بخل کا سبب مال کی محبت ہے اور مال کی محبت کے دو سبب ہیں:

    ایک: ایسی خواہشات کی محبت جن کا حصول بغیر مال اور لمبی امید کے ممکن نہیں، اگر انسان کو علم ہوجائے کہ ایک دن بعد مرجائے گا تو بسا اوقات وہ بخل نہیں کریگا کیونکہ ایک دن، ایک مہینہ یا ایک سال کے لئے جس مقدار کی اس کو ضرورت ہوگی، وہ قریب ہے۔اور اگر امید تو کم ہو مگر اس کی اولاد ہو تو زندگی کی امید کی جگہ اولاد لے لیگی کیونکہ وہ اولاد کی بقاء کو اپنی بقاء جانتا ہے لہٰذا ان کے لئے مال جمع کرتا پھرتا ہے، اسی لئے سرکار علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: اولاد بخل، بزدلی اور جہالت کا سبب ہوتی ہے۔ (امام غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مزید فرماتے ہیں) پھر جب اسے فقرکا خوف لاحق ہو اور مزید رزق کی امید بھی کم ہو تو لامحالہ بخل بڑھے گا۔

    مال کی محبت کا دوسرا سبب محض مال کی محبت ہے، کیونکہ بعض لوگوں کا حال یہ ہے کہ مال بقدرِ حاجت بقیہ عمر کے لئے کفایت کرسکتا ہے، جبکہ وہ اپنی عادت کے مطابق خرچ کرتا رہے بلکہ ہزاروں بچ جائیں، ساتھ ہی ساتھ وہ بوڑھا بھی ہوتا ہے نیز اولاد بھی نہیں ہوتی لیکن مال کی بے پناہ فروانی کے باوجوداس کا نفس زکوٰۃ ادا کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا حتی کہ اگر بیمار ہوجائے تو اپنے علاج پر بھی خرچ نہیں کرتا اور (اپنی جان سے زیادہ) دیناروں سے محبت کرتا ہے اور اسے دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔

    یہ مال کی محبت کے اسباب ہیں اور ہر بیماری کا علاج اس کی ضد سے ہوتا ہے۔ زیادہ مال کی محبت کا علاج تھوڑے مال پر قناعت اور صبر کے ذریعے ممکن ہے، لمبی امید
Flag Counter