Brailvi Books

ضیائے صدقات
129 - 408
    اس حدیث کی شرح میں مفتی احمد یار خان نعیمی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: یعنی جو اِن عیبوں پر مر جائے وہ جنتی نہیں کیونکہ وہ منافق ہے ،مومن میں اوّلاً تو یہ عیب ہوتے نہیں اور اگر ہوں تو رب تعالیٰ مرنے سے پہلے توبہ نصیب کردیتا ہے یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ایسا آدمی جنت میں پہلے نہ جائیگا، احسان جتانے سے طعنہ دینا مراد ہے ورنہ بعض صورتوں میں احسان جتانا عبادت ہے جبکہ اس سے سامنے والے کی اصلاح مقصود ہو، رب تعالیٰ فرماتا ہے:
( بَلِ اللہُ یَمُنُّ عَلَیۡکُمْ اَنْ ہَدٰىکُمْ لِلْاِیۡمَانِ)''
ترجمہ: بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں اسلام کی ہدایت کی[الحجرات:۴۹/۱۷] (کنزالایمان)۔۱؎

    امام غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی ایک بخیل شخص کی حکایت نقل فرماتے ہیں کہ حضرت اعمش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا ایک پڑوسی تھا جو ان کو مسلسل اپنے گھر آنے کی دعوت دیتا اور کہتا اگر آپ آئیں تو میں آپ کو روٹی کا ایک ٹکڑا اور نمک پیش کروں گا اعمش انکار کرتے اس نے ایک دن آپ کو پھر پیشکش کی اتفاق سے اس وقت آپ کو بھوک بھی لگی ہوئی تھی فرمایا: اچھا ہمیں لے چلئے آپ اس کے گھر میں داخل ہوئے تو اس نے روٹی کا ایک ٹکڑا اور نمک پیش کیا اتنے میں ایک سائل آیا تو گھر کے مالک نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے، اس نے پھر سوال کیا تو اس نے وہی جواب دیا جب تیسری مرتبہ سوال کیا تو اس نے کہا: جاتے ہو یا ڈنڈا لے کر آؤں، حضرت اعمش نے سائل کو آواز دی: بھائی چلے جاؤ میں نے اس شخص سے زیادہ سچا کسی کو نہیں دیکھا یہ وعدے کا پابند ہے یہ ایک مدت سے مجھے روٹی کے ٹکڑے اور نمک کی دعوت دیتا رہا خدا کی قسم! اس نے اس میں کچھ بھی اضافہ نہیں کیا۔۲؎
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح،ج۳،ص۷۶۔۷۷)

۲؎ (إحیاء علوم الدین،کتاب ذم البخل وذم حب المال،حکایات البخلاء،ج۳،ص۳۴۳)
Flag Counter