Brailvi Books

ضیائے صدقات
128 - 408
    فرمان مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم، ''دو خصلتیں کبھی جمع نہیں ہوتیں'' کی شرح میں حکیم الامّت مفتی احمد یار خان نعیمی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:یعنی ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی کامل مومن بھی ہو اور ہمیشہ کا بخیل اور بد خُلق بھی، اگر اتفاقاً کبھی اس سے بخل یا بدخلقی صادر ہوجائے تو فوراً وہ پشیمان بھی ہوجاتا ہے اس کے ایک معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ مومن نہ بخیل ہوتا ہے نہ بد خُلق، جس دل میں ایمان کامل جاگزیں ہو تو اس دل سے یہ دونوں عیب نکل جاتے ہیں (لمعات) خیال رہے کہ بد خُلقی اور ہے غصّہ کچھ اور، اللہ تعالیٰ کے لئے غصّہ کرنا عبادت ہے رب تعالیٰ فرماتا ہے:
(اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمْ)
 ترجمہ: کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل[الفتح:۴۸/۲۹] (کنزالایمان) ہماری اس شرح سے حدیث پر نہ یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ بعض مومن بخیل بھی ہوتے ہیں اور بد خلق بھی، کیونکہ وہ یا تو مومن کامل نہیں ہوتے یا اُن کے یہ عیب عارضی ہوتے ہیں، اور نہ یہ اعتراض رہا کہ یہ حدیث قرآن کے خلاف ہے۔۱؎

    جنت میں فریبی، کنجوس اور احسان جتانے والوں کا داخلہ ممنوع ہے، حدیث شریف میں ہے:
عَنْ أَبِيْ بَکْرٍ الصِّدِّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:''لَا یدخُلُ الْجَنَّۃَ خِبٌّ وَّلَا بَخِیل وَّلَا مَنَّانٌ''.۲؎
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں: شہنشاہِ خوش خصال، پیکرِ حسن وجمال، دافعِ رنج و ملال، صاحبِ جود ونوال، رسول بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں نہ تو فریبی آدمی جائے گا نہ کنجوس نہ احسان جتانے والا۔
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح،ج۳،ص۷۵۔۷۶)

۲؎ (سنن الترمذي، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء في البخیل،الحدیث:۱۹۶۴،ج۳،ص۹۴)

(مشکاۃ المصابیح،کتاب الزکاۃ، باب الإنفاق وکراھیۃ الإمساک،الحدیث:۱۸۷۳،ج۱،ص۳۵۵)
Flag Counter