حکایت:کسی عالم سے پوچھا گیا کہ سخاوت بہتر ہے یا شجاعت؟ فرمایا: خدا تعالیٰ جسے سخاوت دے، اُسے شجاعت کی ضرورت ہی نہیں، لوگ خود بخود اُس کے سامنے چت ہوجائیں گے۔
چونکہ صدقہ غضب کی آگ بجھاتا ہے اس لئے سخی دوزخ سے دور ہے۔
مذکورہ حدیث شریف میں سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فرمان: ''جاہل سخی کنجوس عابد سے افضل ہے'' کی تشریح فرماتے ہوئے حکیم الامّت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ رقم طراز ہیں: یہاں عابد سے مراد عالم عابد ہے جیسا کہ جاہل کے مقابلے سے معلوم ہورہا ہے، یعنی جو شخص عالم بھی ہو عابد بھی مگر کنجوس کہ نہ زکوٰۃ دے نہ صدقات واجبہ ادا کرے وہ یقیناً سخی جاہل سے بدتر ہوگا کیونکہ وہ عالم حقیقتاً بے عمل ہے بخل بہت سے فسق پیدا کردیتا ہے اور سخاوت بہت خوبیوں کا تخم ہے، بلکہ وہ عابد بھی کامل نہیں، کیونکہ عبادت مالی یعنی زکوٰۃ وغیرہ ادا نہیں کرتا، صرف جسمانی عبادت ذکر وفکر پر قناعت کرتا ہے جس میں کچھ خرچ نہ ہو۔۱؎
مومن میں بد اخلاقی اور کنجوسی ایک ساتھ نہیں پائی جاتیں۔