| ضیائے صدقات |
سخی اللہ عزوجل، جنت اور لوگوں سے قریب اور جہنم سے دور ہوتا ہے، جبکہ بخیل اس کے برعکس ،چنانچہ حدیث شریف میں ہے:
عَنْ أَبِيْ ھُرَیرۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''اَلسَّخِيُّ قَرِیبٌ مِّنَ اللہِ، قَرِیبٌ مِّنَ الْجَنَّۃِ، قَرِیبٌ مِّنَ النَّاسِ، بَعِید مِّنَ النَّارِ، وَالْبَخِیل بَعِید مِنَ اللہِ، بَعِید مِّنَ الْجَنَّۃِ، بَعِید مِّنَ النَّاسِ، قَرِیبٌ مِّنَ النَّارِ. وَلَجَاھِلٌ سَخِيٌّ أَحَبُّ إِلَی اللہِ مِنْ عَابِدٍ بَخِیل''.۱؎
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں: حضورپاک، صاحب لولاک، سیّاح افلاکصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: سخی اللہ کے قریب ہے، جنت کے قریب ہے، لوگوں کے قریب ہے، آگ سے دور ہے اور کنجوس اللہ سے دور ہے، جنت سے دور ہے، لوگوں سے دور ہے، آگ کے قریب ہے اور یقیناً جاہل سخی کنجوس عابد سے افضل ہے۔
حکیم الامّت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: یہاں مرقات نے فرمایا کہ حقیقی سخی وہ ہے جو غِنٰی پر رب تعالیٰ کی رضا کو ترجیح دے، اس کے تین قرب بیان ہوئے اور ایک دوری، اللہ تعالیٰ تو ہر ایک سے قریب ہے لیکن اس سے قریب کوئی کوئی ہے۔ شعر:
یار نزدیک تر از من بمعنی است ز دیں عجب بیں کہ من از وے دُورم
اس حدیث میں اشارۃً فرمایا گیا کہ سخاوتِ مال حسنِ مآل یعنی انجام بخیر کا ذریعہ ہے۔ سخی سے مخلوق خود بخود راضی رہتی ہے۔مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (سنن الترمذي، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء في السخاء، الحدیث:۱۹۶۱،ج۳،ص۹۲) (مشکاۃ المصابیح،کتاب الزکاۃ، باب الإنفاق وکراھیۃ الإمساک،الحدیث:۱۸۶۹،ج۱،ص۳۵۵)