لے لیتاآج مجھے اس کی ضرورت نہیں۔
مذکورہ حدیث شریف کی شرح میں حکیم الامّت مفتی احمد یار خان نعیمی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:مراد ساری امّت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہے نہ کہ صحابہ کیونکہ مال کی فراوانی قریب قیامت حضرت امام مہدی کے زمانہ میں ہوگی، اور ہوسکتا ہے کہ صحابہ ہی سے خطاب ہو اور سیدنا خضر علیہ السلام اس میں داخل ہوں کہ وہ بھی حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صحابی ہیں اور وہ یہ زمانہ پائیں گے کہ ان کی وفات بالکل قیامت سے متصل ہوگی۔
حکیم الامّت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مزید فرماتے ہیں:ظاہر یہ ہے کہ یہ قبول نہ کرنا غِنٰی کی وجہ سے ہوگا کہ سارے لوگ اتنے مالدار ہوجائیں گے کہ آسانی سے کوئی زکوٰۃ لینے والا نہ ملے گا اس حدیث کی روش سے معلوم ہورہا ہے کہ اس وقت بھی فقیر ملیں گے تو مگر بہت تلاش اور دشواری سے ورنہ مالداروں پر زکوٰۃ فرض نہ رہتی، جیسے جس کے اعضائے وضو ایسے زخمی ہوں جن پر نہ پانی پہنچ سکے نہ تیمم کا ہاتھ پھر سکے، تو اس پر وضو اور تیمم دونوں معاف ہوجاتے ہیں اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فقراء کا ہونا بھی اللہ کی رحمت ہے کہ ان کے ذریعہ ہم بہت سے فرائض سے سبکدوش ہوتے ہیں۔
یہاں مرقات نے فرمایا کہ اس زمانہ کے لوگ زاہد، صابر اور تارک الدنیا ہوجائیں گے جو زکوٰۃ لینا پسند کریں گے ہی نہیں۔۲؎