Brailvi Books

ضیائے صدقات
124 - 408
ظاہری معنی پر ہے یعنی ظالم پل صراط پر اندھیریوں میں گھرا ہوگا، یہ ظلم اندھیری بن کر اس کے سامنے ہوگا، جیسے کہ مومن کا ایمان اور اس کے نیک اعمال روشنی بن کر اس کے آگے چلیں گے، رب تعالیٰ فرماتا ہے:
( یَسْعٰی نُوۡرُہُمۡ بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمْ)
 ترجمہ: (دیکھو گے کہ) ان کا نور ان کے آگے دوڑتا ہے [الحدید: ۵۷/۱۲](کنزالایمان) چونکہ ظالم دنیا میں حق ناحق میں فرق نہ کرسکا اس لئے اندھیرے میں رہا۔

    عربی میں شُحّ بخل سے بدتر ہے، بخل اپنا مال کسی کو نہ دینا ہے اور شح اپنا مال نہ دینا اور دوسرے کے مال پر ناجائز قبضہ کرنا ہے غرض کہ شح، بخل،حرص اور ظلم کا مجموعہ ہے، اسی لئے یہ فتنوں، فساد، خوں ریزی وقطع رحمی کی جڑ ہے، جب کوئی دوسروں کا حق ادا نہ کرے بلکہ انکے حق اور چھیننا چاہے تو خواہ مخواہ فساد ہوگا۔۱؎

    ایک زمانہ ایسا ہوگا کہ جب صدقہ لینے والا کوئی نہ ہوگا، حدیث شریف میں ہے:
عَنْ حَارِثِ بْنِ وَھْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:''تَصَدَّقُوْا فَإِنَّہُ یاتِيْ عَلَیکمْ زَمَانٌ یمشِي الرَّجُلُ بِصَدَقَتِہِ فَلَا یجدُ مَنْ یقبَلُھَا، یقوْلُ الرَّجُلُ: لَوْ جِئْتَ بِھَا بِالْأَمْسِ لَقَبِلْتُھَا،فَأَمَّا الْیومَ فَلَا
حضرت حارث بن وہب سے مروی ہے، فرماتے ہیں: نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور، سلطان بحرو برصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ کرو کیونکہ تم پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ کوئی شخص اپنا صدقہ لے کر چلے گا تو کوئی اس کا قبول کرنے والا نہ ملے گاآدمی کہے گا کہ اگر تم کل لاتے تو میں
مدینـــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح،ج۳،ص۷۲)
Flag Counter