Brailvi Books

ضیائے صدقات
123 - 408
بھی مسکین ہیں، ہمیں بھی دیجئے۔اس وقت تھیلی میں صرف دو دینار باقی رہ گئے تھے حضرت معاذ نے وہ دو دینار زوجہ محترمہ کی طرف پھینکے اور غلام نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر سارا معاملہ بیان کیا، تو آپ نے فرمایا: بے شک یہ سب آپس میں بھائی بھائی ہیں۔

     بُخل ناحق خونریزی کا باعث ہے۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے:
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''اِتَّقُوا الظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ یومَ الْقِیامَۃِ، وَاتَّقُوا الشُّحَّ فَإِنَّ الشُّحَّ أَھْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ حَمَلَھُمْ عَلٰی أَنْ سَفَکُوْا دِمَائَھُمْ، وَاسْتَحَلُّوْا مَحَارِمَھُمْ''.۱؎
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں: شہنشاہِ مدینہ،قرارِقلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نزول سکینہ، فیض گنجینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ظلم سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیریاں ہوگا اور کنجوسی سے بچو کیونکہ کنجوسی نے تم سے پہلے والوں کوہلاک کردیا،کنجوسی نے انہیں رغبت دی کہ انہوں نے خون ریزی کی اور حرام کو حلال جانا۔

    حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:ظلم کے لغوی معنی ہیں کسی چیز کو بے موقعہ استعمال کرنا اور کسی کا حق مارنا، اسکی بہت قسمیں ہیں گناہ کرنا اپنی جان پر ظلم ہے، قرابت داروں یا قرض خواہوں کا حق نہ دینا ان پر ظلم، کسی کو ستانا ایذاء دینا اس پر ظلم، یہ حدیث سب کو شامل ہے اور حدیث اپنے
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب تحریم الظلم، الحدیث:۲۵۷۸،ص۱۰۰۰)

(مشکاۃ المصابیح،کتاب الزکاۃ،باب الإنفاق وکراھیۃ الإمساک،الحدیث:۱۸۶۵،ج۱،ص۳۵۴)
Flag Counter