Brailvi Books

ضیائے صدقات
122 - 408
وَصَلَہُ اللہُ وَرَحِمَہُ، ثُمَّ قَالَ: تَعَالِي یا جَارِیۃ اِذْھَبِيْ بِھٰذِہِ السَّبْعَۃِ إِلٰی فُلَانٍ، وَبِھٰذِہِ الْخَمْسَۃِ إِلٰی فُلَانٍ، حَتّٰی أَنْفَذَھَا، فَرَجَعَ الْغُلَامُ إِلٰی عُمَرَ فَأَخْبَرَہُ فَوَجَدَہُ قَدْ أَعَدَّ مِثْلَھَا لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، فَأَرْسَلَہُ بِھَا إِلَیْہِ، فَقَالَ مُعَاذٌ: وَصَلَہُ اللہُ: یَاجَارِیَۃُ اِذْہَبِیْ اِلٰی بَیْتِ فُلَانٍ بِکَذَا، وَلِبَیت فُلَانٍ بِکَذَا، فَاطَّلَعَتِ امْرَأَۃُ مُعَاذٍ وَقَالَتْ: نَحْنُ وَاللہِ مَسَاکِین فَأَعْطِنَا فَلَمْ ےَبْقَ فِي الْخِرْقَۃِ إِلَّا دِینارَانِ فَدَحٰی بِھِمَا إِلَیھَا، وَرَجَعَ الْغُلَامُ فَأَخْبَرَ بِذٰلِکَ، وَقَالَ: إِنَّھُمْ إِخْوَۃٌ بَعْضُھُمْ مِّنْ بَعْضٍ.۱؎
لے لیجئے، تو انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت فرمائے۔ پھراپنی باندی کو بلا کر فرمایا: اے باندی! یہاں آؤ، یہ سات دینارفلاں کو دے آؤ اور یہ پانچ فلاں کو، حتی کہ اس طرح انہوں نے سارے دینار تقسیم کر دئیے۔ غلام نے واپس آکر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے تمام معاملہ بیان کیا، پھر غلام نے دیکھا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس جیسی ایک تھیلی حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے تیار کر رکھی ہے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے غلام کو وہ دینار دے کر حضرت معاذرضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھیجا، ( غلام نے وہ دینار حضرت معاذ کی خدمت میں پیش کئے) تو حضرت معاذرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ان کا بھلا کرے۔پھر اپنی باندی سے فرمایا: اے باندی! اِتنے دینار فلاں کے گھر دے آؤ اور اتنے فلاں کے گھر، تو حضرت معاذ کی زوجہ محترمہ تشریف لائیں اور کہا کہ خدا کی قسم! ہم خود
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ تلہّ: ھو بفتح التاء المثناۃ فوق واللام أیضاً وتشدید الھائ:أي تشاغل.فدحی بھما:بالحاء المھملۃ: أی رمی بھما. (سیر أعلام النبلائ،ج۱،ص۴۵۶)
Flag Counter