| ضیائے صدقات |
اگر مجھے ایک لاکھ ملے تو تجھے ایک درہم دوں گا۔ چنانچہ اسے ساٹھ ہزار درہم ملے تو اس نے اسے چار دانق دئیے (ایک دانق درہم کا چھٹا حصّہ ہوتا ہے اس طرح چار دانق درہم کا دو تہائی حصہ ہوا)۔
ایک مرتبہ اس نے ایک درہم کا گوشت خریدا ادھر اس کے دوست نے اسے دعوت دی تو اس نے گوشت قصاب کو واپس کردیا اور ایک دانق کا نقصان اٹھایا اور کہنے لگا مجھے فضول خرچی پسند نہیں ہے۔۱؎
نبی مکرم،نورمجسم، رسول اکرم، شہنشا ہ بنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم ایثار و محبت اور راہِ خدا عزوجلمیں خرچ کرنے کے نیک جذبہ سے سرشار تھے، چنانچہ:عَنْ مَالِکٍ الدَّارِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُأَخَذَ أَرْبَعَ مِائَۃِ دِینارٍ فَجَعَلَھَا فِيْ صُرَّۃٍ، فَقَالَ لِغُلَامٍ: اِذْھَبْ بِھَا إِلٰی أَبِيْ عُبَیدۃَ ثُمَّ تَلَہَّ فِي الْبَیت سَاعَۃً حَتّٰی تَنْظُرَ مَا یصنَعُ، قَالَ: فَذَھَبَ بِھَا الْغُلَامُ، فَقَالَ: یقوْلُ لَکَ أَمِیرالْمُؤْمِنِین خُذْ ھٰذِہِ، فَقَالَ:
حضرت مالک دار سے مروی ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چار سو دینار لئے اور تھیلی میں ڈال کراپنے ایک غلام سے فرمایا:یہ ابو عبیدہ کے پاس لے جاؤ پھر کچھ دیر اُن کے گھر ہی میں ٹھہرو اور دیکھو کہ وہ ان کا کیا کرتے ہیں، تو غلام وہ دینار لے کر چلا اور عرض کی: امیر المؤمنین نے آپ کے لئے کہا ہے کہ یہ دینار
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (إحیاء علوم الدین، کتاب ذم البخل وذم حب المال،حکایات البخلاء،ج۳،ص۳۴۳)