کے بارے میں تونے مجھ پر بھروسا کیا میں نے ان کی حاجت روائی فرمائی۔
بخیل بظاہر تو مال جمع کرتا ہے مگر حقیقت میں اپنا ہی نقصان کرتا ہے کیونکہ اس مال کے سبب جن نعمتوں کا حصول اس کے لئے ممکن ہوسکتا ہے اپنی کنجوسی کی وجہ سے وہ اُن سے محروم رہتا ہے۔ چنانچہ:
کہا جاتا ہے کہ مروان بن ابی حفصہ بخل کی وجہ سے گوشت نہیں کھاتا تھا اور جب اس کا جی چاہتا تو وہ غلام کو بھیج کر بازار سے سِری منگوالیتا اور اسے کھاتا اس سے کہا گیا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ گرمیوں سردیوں میں سریاں ہی کھاتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟ اس نے کہا: یہ ٹھیک ہے لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے اس کے نرخ کا علم ہے لہٰذا میں غلام کی خیانت سے محفوظ رہتا ہوں اور وہ مجھے دھوکہ نہیں دے سکتا اور یہ ایسا گوشت ہے کہ غلام اسے پکاتے وقت اس میں سے کھا نہیں سکتا اگر وہ اس کی آنکھ،کان یا چہرے سے کھاتا ہے تو مجھے پتہ چل جاتا ہے پھر یہ کہ اس میں سے مجھے مختلف ذائقے حاصل ہوتے ہیں آنکھ کا ذائقہ الگ ہے، کان کا ذائقہ جدا ہے، زبان کا ذائقہ مختلف ہے اور اس کی گُدی اور دماغ کے ذائقے بھی منفرد ہیں اور اس کے پکانے کی مشقت سے بھی محفوظ رہتا ہوں تو اس میں میرے لئے کئی آسانیاں جمع ہوتی ہیں۔
یہی شخص خلیفہ مہدی کے پاس جانے لگا تو اس کے گھر والوں میں سے ایک عورت نے کہا: اگر خلیفہ نے تجھے انعام دیا تو اس میں میرا حصہ کتنا ہوگا؟ اس نے کہا: