| ضیائے صدقات |
قَالَ: بَلٰی أَيْ رَبِّ. قَالَ: کَیف صَنَعْتَ فِیما آتَیتکَ؟ قَالَ: تَرَکْتُہُ لِوَلَدِيْ مَخَافَۃَ الْعَیلۃِ عَلَیھِمْ. قَالَ: أَمَا إِنَّکَ لَوْ تَعْلَمُ الْعِلْمَ لَضَحِکْتَ قَلِیلاً، وَلَبَکَیت کَثِیراً، أَمَا إِنَّ الَّذِيْ تَخَوَّفْتَ عَلَیھِمْ قَدْ أَنْزَلْتُ بِھِمْ وَیقوْلُ لِلْآخَرِ:
پرمال و اولاد کی کثرت نہ کی ؟ اس نے عرض کیا: کیوں نہیں! اے میرے رب! عزوجل اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم نے میرے عطاکردہ مال میں کیا عمل کیا ؟ اس نے عرض کی: اسے فقر کے خوف سے اولاد کے لئے چھوڑدیا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اگر تم حقیقت جان لیتے تو کم ہنستے اورزیادہ روتے۔ سنو! جس فقر کا تمہیں اپنی اولاد پر خوف تھا وہ میں ان پر نازل کرچکا ہوں۔ اور دوسرے
أَيْ فُلَانُ ابْنُ فُلَانٍ، فَیقوْلُ: لَبَّیک أَيْ رَبِّ وَسَعْدَیک؟ قَالَ لَہُ: اَلَمْ اُکْثِرْلَکَ مِنَ الْمَالِ وَالْوَلَدِ؟ قَالَ: بَلٰی. أَيْ رَبِّ. قَالَ: فَکَیف صَنَعْتَ فِیما آتَیتکَ؟ فَقَالَ: أَنْفَقْتُ فِيْ طَاعَتِکَ،وَوَثِقْتُ لِوَلَدِيْ مِنْ بَعْدِيْ بِحُسْنِ طَوْلِکَ. قَالَ: أَمَا إِنَّکَ لَوْ تَعْلَمُ الْعِلْمَ لَضَحِکْتَ کَثِیراً، وَلَبَکَیت قَلِیلاً، أَمَا إِنَّ الَّذِيْ
سے فرمایا :اے فلاں بن فلاں! اس نے عرض کی:اے میرے رب! عزوجل میں حاضر ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کیا میں نے تجھ پر مال و اولاد کی کثرت نہیں کی ؟ اس نے عرض کی: کیوں نہیں، اے میرے رب! عزوجل اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم نے میرے عطاکردہ مال میں کیا عمل کیا ؟ اس نے عرض کی: میں نے اسے تیری اِطاعت میں خرچ کیا اور اپنے بعد اپنی اولاد کے بارے میں تیرے فضل وکرم پر بھروسا کیا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اگر تم حقیقت جان لیتے تو زیادہ ہنستے اور کم روتے۔ سنو! جن