| ضیائے صدقات |
غَنِیا''. قُلْتُ: وَکَیف لِيْ بِذَاکَ؟ قَالَ: ''مَا رُزِقْتَ فَلَا تَخْبَأْ، وَمَا سُءِلْتَ فَلَا تَمْنَعْ''، فَقُلْتُ: یا رَسُوْلَ اللہِ کَیف لِيْ بِذَاکَ؟ قَالَ: ''ھُوَ ذَاکَ أَوِ النَّارُ''.۱؎
مجھ سے فرمایا: اے بلال! فقیر مرنا غنی نہ مرنا، میں نے عرض کی: یہ مجھ سے کیسے ہوگا؟ فرمایا: تمہیں جو رزق ملے اسے جمع مت کرو اور جو تم سے مانگا جائے اس سے منع مت کرو، تو میں نے عرض کی: یارسول اللہ! یہ مجھ سے کیسے ہوگا؟ فرمایا: ایسے ہی کرنا ہوگا ورنہ آگ ہے۔
ان دو شخصوں کے متعلق جن میں سے ایک نے اپنے بعد اپنی اولاد کے معاملہ میں اللہ عزوجل پر بھروسا کیا اور دوسرے نے فقر کے خوف سے مال جمع کرکے رکھا حدیث شریف میں بیان ہوا کہعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''نَشَرَ اللہُ عَبْدَین مِنْ عِبَادِہِ أَکْثَرَ لَھُمَا الْمَالَ وَالْوَلَدَ، فَقَالَ لِأَحَدِھِمَا:أَيْ فُلَانُ ابْنُ فُلَانٍ! قَالَ: لَبَّیک رَبِّ وَسَعْدَیک. قَالَ: أَلَمْ أُکْثِرْ لَکَ مِنَ الْمَالِ وَالْوَلَدِ؟
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں:آقائے مظلوم، سرور معصوم، حسن اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، محبوب ر ب اکبرصلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے اپنے بندو ں میں سے دو بندوں کو ان کی موت کے بعد زندہ فرمایا جنہیں بکثرت مال واولاد دی تھی۔ ایک سے فرمایا :اے فلاں بن فلاں ! اس نے عرض کی: اے رب! عزوجل میں حاضر ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا میں نے تجھ
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (المعجم الکبیر للطبراني، الحدیث:۱۰۲۱،ج۱،ص۳۴۱)