| ضیائے صدقات |
اس نے کہا: تم اس کے خاص آدمی ہو اگر تمہارا ستر ننگا ہوجائے اور کپڑے پھٹ جائیں تو پھر کیا ہوگا؟ اس نے کہا: وہ کہے گا: اللہ کی قسم! میرے پاس تو سُوئی نہیں جس کے ساتھ میں اس کی سلائی کروں۔ اور اگر محمد بن یحییٰ بغداد سے نوبہ (ایک مقام) تک (اتنے بڑے) گھر کا مالک ہو اور وہ سوئیوں سے بھرا ہوا ہو اور پھر حضرت جبریل اور حضرت میکائیل علیہما السلام تشریف لائیں اور ان کے ساتھ حضرت یعقوب علیہ السلام بھی ہوں اور وہ اس سے ایک سوئی مانگیں تاکہ حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص کی سلائی کریں جو پیچھے سے پھٹ گئی تھی تو تب بھی وہ سُوئی نہیں دے گا۔۱؎
بخل رزق سے محروم ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔ چنانچہعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِيْ بَکْرٍ رَضِيَ اللہُ عَنْھُمَاقَالَتْ: قَالَ لِيْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''لَا تُوْکِيْ فَیوکٰی عَلَیک''.۲؎
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:راہ خدا میں خرچ کرنے سے مت رک ورنہ رزق روک دیا جائے گا۔
جمع مال سے بچنے اور سائل کو تہی دست نہ لوٹانے کی ترغیب میں بیان ہے:عَنْ بِلَالٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ لِيْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:''یا بِلَالُ مُتْ فَقِیراً وَلَا تَمُتْ
حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں:سرکاروالا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیع روزشمار، دو عالم کے مالک و مختار، حبیب پروردگارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (إحیاء علوم الدین، کتاب ذم البخل وذم حب المال،حکایات البخلاء،ج۳،ص۳۴۳) ۲؎ (صحیح البخاري،کتاب الزکاۃ، باب التحریض علی الصدقۃ والشفاعۃ فیھا، الحدیث:۱۴۳۳، ج۱،ص۳۵۱)