Brailvi Books

ضیائے صدقات
116 - 408
    مذکورہ حدیث شریف کی شرح میں حکیم الامّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:اس میں حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو انتہائی تقویٰ اور ترکِ دنیا کی تعلیم ہے اور توکّل سے اعلیٰ توکّل کی طرف ترقی دینا ہے یعنی اے بلال! رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں جس درجہ پر تمہیں پہنچانا چاہتا ہوں وہ جب ہی حاصل ہوگا جب کہ تم اپنے پاس اتنا بھی نہ رکھو تاکہ تمہیں قیامت کے دن اسکا حساب دینے میں کچھ بھی نہ ٹھہرنا پڑے، یہی مطلب ہے دوزخ کے بخار دیکھنے کا،حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت تن تنہا تھے، اہل و عیال نہ رکھتے تھے، آپ کے ذمہ کسی کے حقوق نہ تھے، فرمایا: اکیلے دم کے لئے جمع کرنے کی فکر کیوں لگاتے ہیں رب ہمارے آستانے سے تمہیں دئیے جائے تم کھائے جاؤ، صوفیائے کرام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہم اپنے بعض مریدین کو کبھی چلّوں سے مجاہدہ کراتے ہیں، اس زمانہ میں ترک دنیا ترک حیوانات کامل کراتے ہیں، ان کی اصل یہ حدیث ہے، یہ حدیث جمع دنیا کے خلاف نہیں، اگر مال جمع کرنا حرام ہوتا تو اسلام کا ایک رُکن یعنی زکوٰۃ ہی فوت ہوجاتی ۔۱؎

    منقول ہے کہ محمد بن یحییٰ بن خالد بن برمک بہت زیادہ بخیل تھا اس کے کسی رشتہ دارسے جو اس کو اچھی طرح جانتا تھا پوچھا گیا کہ اس کے دستر خوان کا حال بیان کرو، اس نے کہا: وہ انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان والی جگہ ہے یعنی تنگ ہے اور گویا اس کے پیالے خشخاش کے دانوں کو کھرچ کر بنائے گئے ہوں۔ پوچھا گیا: اس کے پاس کون آتا ہے؟ اس نے جواب دیا: کراماً کاتبین (فِرشتے)۔ اس نے کہا: اس کے ساتھ کوئی بھی کھاتا نہیں ہوگا؟ اس نے جواب دیا: کیوں نہیں مکھیاں کھاتی ہیں۔
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح،ج۳،ص۹۰۔۹۱)
Flag Counter