| ضیائے صدقات |
کہا جاتاہے کہ بصرہ میں ایک فراخ دست بخیل شخص رہتا تھا اس کے ایک پڑوسی نے اس کی دعوت کی اور اس کے سامنے ہانڈی میں بھنا ہوا گوشت رکھا اس نے اس میں سے بہت زیادہ کھالیا اور پھر پانی پینے لگا چنانچہ اس کا پہٹ پھُول گیا اور وہ سخت تکلیف اور موت کی حالت میں مبتلا ہوگیا اور تڑپنے لگا جب معاملہ بگڑتا گیا تو طبےب کو اس کی حالت بتائی گئی اس نے کہا کوئی حرج نہیں جو کچھ کھایا ہے اسے قے کردو اس نے کہا، ہرگز نہیں، ایسے عمدہ بھُنے ہوئے گوشت کو کیسے قے کردوں موت قبول کرلوں گا ایسا نہیں کروں گا۔۱؎
مال جمع نہ کرنے میں تقویٰ ہے۔ حدیث شریف میں ہے:عَنْ أَبِيْ ھُرَیرۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلٰی بِلَالٍ وَعِنْدَہُ صُبْرَۃٌ مِنْ تَمَرٍ فَقَالَ: ''مَا ھٰذَا یا بِلَالُ''؟، قَالَ:شَیْءٌ اِدَّخَرْتُہٗ لِغَدٍ فَقَالَ: أَمَا تَخْشٰی أَنْ تَرٰی لَہٗ غَداً بُخَاراً فِیْ نَارِ جَہَنَّمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَنْفِقْ یا بِلَالُ، وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالاً''.۲؎
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ تاجدار رسالت، شہنشاہ نبوت، مخزنِ جودوسخاوت، پیکر عظمت و شرافت، محبوب ر ب العزت، محسن انسانیت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلمحضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تشریف لائے، ان کے پاس کھجوروں کا ڈھیر تھا فرمایا: اے بلال یہ کیا؟ عرض کیا کہ اسے میں نے کل کے لئے جمع کیا ہے فرمایا: کیا تمہیں اس سے خوف نہیں کہ تم کل اس کے سبب دوزخ کی آگ میں بخار قیامت کے دن دیکھو، اے بلال! خرچ کرو اور عرش والے سے کمی کا خوف نہ کرو۔
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (إحیاء علوم الدین، کتاب ذم البخل وذم حب المال،حکایات البخلاء،ج۳،ص۳۴۲) ۲؎ (شعب الإیمان، باب التوکل والتسلیم، الحدیث:۱۳۴۶،ج۲،ص۱۱۸) (مشکاۃ المصابیح،کتاب الزکاۃ، باب الإنفاق وکراھیۃ الإمساک،الحدیث:۱۸۸۵،ج۱،ص۳۵۸)