| ضیائے صدقات |
عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''الْأَخِلَّاءُ ثَلَاثَۃٌ: فَأَمَّا خَلِیل فَیقوْلُ: لَکَ مَا أَعْطَیت وَمَا أَمْسَکْتَ فَلَیس لَکَ فَذٰلِکَ مَالُکَ، وَأَمَّا خَلِیل فَیقوْلُ: أَنَا مَعَکَ حَتّٰی تَأْتِيَ بَابَ الْمَلِکِ ثُمَّ أَرْجِعُ وَأَتْرُکُکَ فَذٰلِکَ أَھْلُکَ وَعَشِیرتُکَ یعیْشُوْنَکَ حَتّٰی تَأْتِيَ قَبْرَکَ ثُمَّ یرجِعُوْنَ فَیترُکُوْکَ، وَأَمَّا خَلِیل فَیقوْلُ: أَنَا مَعَکَ حَیث دَخَلْتَ، وَحَیث خَرَجْتَ، فَذٰلِکَ عَمَلُکَ، فَیقوْلُ: وَاللہِ لَقَدْ کُنْتَ مِنْ أَھْوَنِ الثَّلَاثَۃِ عَلَيَّ''.۱؎
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں: خاتم المرسلین، رحمۃللعالمین، شفیع المذنبین، انیس الغریبین، سراج السالکین، محبوب رب العلمین، جناب صادق و امین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: دوست تین قسم کے ہیں ایک وہ دوست جو کہے: تیرا وہ ہے جو تو نے خرچ کیا اور جو تو نے روکا وہ تیرا نہیں یہ تیرا مال ہے، ایک وہ دوست جو کہتا ہے: میں تیرے مرنے تک تیرے ساتھ ہوں پھر میں لَوٹ جاؤں گا اور تجھے چھوڑ دوں گا، یہ تیرے اہلِ خانہ، بیوی بچے ہیں جو تیرے ساتھ زندگی گزارتے ہیں یہاں تک کہ تو اپنی قبر میں پہنچ جاتا ہے اور وہ تجھے چھوڑ جاتے ہیں،اور ایک دوست وہ ہے جو کہے گا: میں تیرے آنے میں بھی تیرے ساتھ ہوں اور جانے میں بھی، وہ تیرا عمل ہے، تو انسان کہے گا: اللہ کی قسم! (دنیا میں) تُو میرے نزدیک تینوں (دوستوں) میں (سب) سے زیادہ ذلیل تھا۔
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (المستدرک علی الصحیحین، الحدیث:۲۴۸،ج۱،ص۱۴۵)