| ضیائے صدقات |
فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:''یا قَیس مَا شَأْنُ إِخْوَتِکَ یشکُوْنَکَ یزعَمُوْنَ أَنَّکَ تُبَذِّرُ مَالَکَ، وَتَنْبَسِطُ فِیہِ''، قُلْتُ: یا رَسُوْلَ اللہِ إِنِّيْ آخُذُ نَصِیبِيْ مِنَ الثَّمَرَۃِ فَأُنْفِقُہُ فِيْ سَبِیل اللہِ، وَعَلٰی مَنْ صَحِبَنِيْ فَضَرَبَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمْ صَدْرَہُ وَقَالَ: ''أَنْفِقْ ینفِقِ اللہُ عَلَیک'' ثَلَاثَ مَرَّاتٍ،
تو سید المبلغین، رحمۃللعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تمہارے بھائیوں کا کیا مسئلہ ہے، وہ اس گمان پر تمہاری شکایت کررہے ہیں کہ تم اپنے مال میں بہت فضول خرچی کرتے ہو اور تمہارا ہاتھ بہت کھلا ہے؟ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ!عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں آمدنی سے اپنا حصہ لے کر اللہ کی راہ میں اور اپنے دوستوں میں خرچ کردیتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے سینۂ اقدس پر دست مبارک رکھا اور تین مرتبہ فرمایا: خرچ کر اللہ تجھے عطا فرمائے گا۔
فَلَمَّا کَانَ بَعْدَ ذٰلِکَ خَرَجْتُ فِيْ سَبِیل اللہِ، وَمَعِيَ رَاحِلَۃٌ، وَأَنَا أَکْثَرُ أَھْلِ بَیتي الْیومَ وَأَیسرُہُ.۱؎
(راوی فرماتے ہیں) اس کے بعد جب بھی میں راہ خدا میں نکلتا تو میرے پاس اپنی سواری ہوتی اور آج میرا یہ حال ہے کہ میں مال و آسائش میں اپنے اہل خانہ (بھائیوں) سے بڑھ کر ہوں۔
شہنشاہ خوش خصال، پیکر حسن وجمال،، دافع رنج و ملال، صاحب جودو نوال، رسول بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایک عورت کی تعریف کی گئی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کی کہ وہ بہت روزے رکھنے والی اورمدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (المعجم الأوسط للطبراني، الحدیث:۸۵۳۶،ج۸،ص۲۴۷)