Brailvi Books

ضیائے صدقات
111 - 408
قَلَّ وَکَفٰی خَیر مِمَّا کَثُرَ وَأَلْھٰی وَلَا آبَتِ الشَّمْسُ إِلَّا وَکَانَ بِجَنْبَتَیھَا مَلَکَانِ ینادِیانِ نِدَائً یسمَعُہُ خَلْقُ اللہِ کُلُّھُمْ إِلَّا الثَّقَلَین: اللّٰھُمَّ أَعْطِ مُنْفِقاً خَلَفاً وَأَعْطِ مُمْسِکاً تَلَفاً.۱؎
کرے تو وہ اس سے بہتر ہے جو زیادہ تو ہو مگر (یادِ الٰہی سے)غافل کردے اور ہر روز سورج یوں ہی ڈوبتا ہے کہ اس کے اطراف میں دو فِرشتے پکارتے ہیں جس پکار کو جن و اِنس کے سوا تمام مخلوق سُنتی ہے الٰہی!عزوجل سخی کو اچھا عوض دے اور بخیل کو بربادی دے۔ 

    حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: میرے نزدیک کسی بخیل کو عادل قرار دینا درست نہیں کیونکہ بخل اسے لالچ پر اُبھارتا ہے نتیجۃً وہ نقصان کے خوف سے اپنے حق سے زیادہ لے لیتا ہے۔ لہٰذا جس شخص میں بخل کی صفت پائی جاتی ہے اس کے پاس امانت محفوظ نہیں ہوسکتی۔۲؎

    اللہ عزوجل کی راہ میں خرچ کرنے سے مال میں برکت ہوتی ہے نہ کہ کمی چنانچہ حدیث شریف میں ہے:
عَنْ قَیس بْنِ سِلَعٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ إِخْوَتَہُ شَکَوْہُ إِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالُوْا: إِنَّہُ یبَذِّرُ مَالَہُ، وَینبَسِطُ فِیہِ.
حضرت قیس بن سلع انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے بھائیوں نے حضور پاک، صاحب لولاک، سیاح افلاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ان کی شکایت کی کہ وہ فضول خرچی کرتے ہیں اور اس معاملے میں بہت کھلا ہاتھ ہے،
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (شعب الإیمان، باب الزکاۃ، فصل في کراھیۃ رد السائل، الحدیث:۳۴۱۲،ج۳،ص۲۳۳)

۲؎ (إحیاء علوم الدین، کتاب ذم البخل وذم حب المال،بیان ذم البخل،ج۳،ص۳۴۲)
Flag Counter