Brailvi Books

ضیائے صدقات
110 - 408
    کہا گیا ہے کہ نوشیروان کے پاس ایک ہندوستانی حکیم اور ایک رومی فلاسفر آئے، نوشیروان نے ہندوستانی حکیم سے کہا: کچھ کہو، وہ بولا: بہترین آدمی وہ ہے جو سخاوت کے ساتھ ملاقات کرے اور غصّے کی حالت میں باوقار رہے، گفتگو میں ٹھہراؤ ہو اور رقّت کی حالت میں بھی تواضع کرنے والا ہو نیز تمام رشتہ داروں پر شفقت کرنے والا ہو۔

    رومی فلاسفرنے کھڑے ہو کرکہا: بخیل آدمی کا دشمن اس کے مال کا وارث ہوتا ہے، جو آدمی شکر کم ادا کرتا ہے وہ کامیابی نہیں پاسکتا، جھوٹے لوگ قابلِ مذمت ہیں اور چغل خور حالتِ فقر میں مرتے ہیں اور جو آدمی رحم نہیں کرتا اس پر بے رحم شخص مسلّط کردیا جاتا ہے۔۱؎

    ایک اور حدیث شریف میں ہے:
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''مَا مِنْ یومٍ طَلَعَتْ شَمْسُہُ إِلَّا وَکَانَ بِجَنْبَتَیھَا مَلَکَانِ ینادِیانِ نِدَائً یسمَعُہُ مَا خَلَقَ اللہُ کُلُّھُمْ غَیر الثَّقَلَین. یا أَیھَا النَّاسُ ھَلُمُّوْا إِلٰی رَبِّکُمْ، إِنَّ مَا
حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور، سلطان بحرو برصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: روزانہ سورج یوں ہی طلوع ہوتا ہے کہ اس کے اطراف میں دو فِرشتے پکارتے ہیں اور ان کی یہ پکار جن و اِنس کے سوا تمام مخلوق سُنتی ہے کہ اے لوگو! اپنے رب کی طرف آؤ بے شک جو (رزق) اگرچہ کم ہو اور کفایت
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (إحیاء علوم الدین، کتاب ذم البخل وذم حب المال،بیان ذم البخل،ج۳،ص۳۴۲)
Flag Counter