صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انسان! اگر تم بچا مال خرچ کردو توتمہارے لئے اچھا ہے اور اگر اُسے روک رکھو تو تمہارے لئے بُرا ہے اور بقدرِ ضرورت اپنے پاس رکھ لو تو تم پر ملامت نہیں اور دینے میں اپنے عیال سے ابتدا کرو اور اُوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے ۔
اس حدیث کی شرح میں مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: یعنی اپنی ضروریات سے بچا ہوا مال خیرات کردینا خود تیرے لئے ہی مفید ہے کہ اس سے تیرا کوئی کام نہ رُکے اور تجھے دنیا وآخرت میں عوض مل جائے گا اور اسے روکے رکھنا خود تیرے لئے ہی بُرا ہے کیونکہ وہ چیز سڑ گل یا اور طرح سے ضائع ہوجائے گی اور تُو ثواب سے محروم ہوجائیگا، اسی لئے حکم ہے کہ نیا کپڑا پاؤ تو پُرانا بیکار کپڑا خیرات کردو نیا جوتا رب تعالیٰ دے تو پُرانا جوتا جو تمہاری ضرورت سے بچا ہے کسی فقیر کو دے دو کہ تمہارے گھر کا کوڑا نکل جائے گا اور اُس کا بھلا ہوجائے گا۔
مفتی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مزیدفرماتے ہیں: اس میں دو حکم بیان ہوگئے ایک یہ کہ جو مال اس وقت تو زائد ہے کل ضرورت پیش آئے گی اسے جمع رکھ لو آج نفلی صدقہ دے کر کل خود بھیک نہ مانگو، دوسرے یہ کہ خیرات پہلے اپنے عزیز غریبوں کو دو پھر اجنبیوں کو کیونکہ عزیزوں کو دینے میں صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔۲؎