حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بنو لحیان کے وفد سے پوچھا: اے بنو لحیان! تمہارا سردار کون ہے؟ انہوں نے عرض کی کہ جد بن قیس، مگر وہ بخیل ہیں تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: بخل سے بڑی بیماری کونسی ہے، تو پھر تمہارے سردار حضرت عمرو بن جموح ہیں۔
ایک روایت میں ہے انہوں نے عرض کی کہ جد بن قیس ہمارے سردار ہیں، تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اُسے سردار کیوں بنایا ہے؟ انہوں نے عرض کی: اس لئے کہ وہ سب سے زیادہ مال دار ہیں لیکن اس کے باوجود ہم ان میں بخل پاتے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: بھلا بخل سے بڑھ کر بھی کوئی بیماری ہے؟ وہ تمہارا سردار نہیں، تو عرض کی: یارسول اللہ! پھر ہمارا سردار کون ہے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے سردار بشر بن براء ہیں۔۱؎
اپنی ضروریات سے بچا ہوا مال خیرات کردینا مفید ہے جبکہ اسے روک رکھنا بعض اوقات مضر ہوتا ہے۔چنانچہ حدیث شریف میں ہے: