| ضیائے صدقات |
بخیل کو بربادی دے۔
اس حدیث کی شرح میں مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: یعنی سخی کے لئے دعا اور کنجوس کے لئے بددعا روزانہ فرشتوں کے منہ سے نکلتی ہے جو یقینا قبول ہے، خیال رہے کہ خَلَف مطلقاً عوض کوکہتے ہیں دنیاوی ہو یا اُخروی، حسّی ہو یا معنوی مگر تَلَف دنیوی اور حسّی بربادی کو کہا جاتاہے، رب تعالیٰ فرماتا ہے:(وَ مَاۤ اَنۡفَقْتُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَہُوَ یُخْلِفُہٗ ۚ )
([السبا:۳۴/۳۹] ترجمہ: اور جو چیز تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو وہ اس کے بدلے اور دے گا (کنزالایمان)) ۲؎
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: سخاوت اللہ عزوجل کی عطاسے ہے ،سخاوت کرو اللہ تعالیٰ تمہیں مزیدعطا فرمائے گا، سنو! اللہ تعالیٰ نے سخاوت کو پیدا فرماکر ایک مرد کی صورت عطا فرمائی اور اس کی اصل کو طوبیٰ درخت کی جڑ میں راسخکردیا اور ٹہنیوں کو سدرۃ المنتہیٰ کی ٹہنیوں کے ساتھ مضبوط کر دیا اور اس کی بعض شاخوں کو دنیا کی طرف جُھکا دیا تو جو شخص اس کی ایک ہی ٹہنی پکڑ لے اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمادیتا ہے، سنو! بیشک سخاوت ایمان ہی سے ہے اور ایمان جنت میں ہے اور اللہ تعالیٰ نے بخل کو اپنے غضب سے پیدا فرمایا اور اس کی اصل کو شجر زقوم (جہنم کے کانٹے دار درخت) کی جڑ میںمدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (صحیح البخاري،کتاب الزکاۃ، باب قول اللہ تعالی:(فَأَمَّا مَنْ أَعْطٰی) إلخ، الحدیث:۲۳۸۹، ج۱،ص۳۵۳) (صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب في المنفق والممسک، الحدیث:۱۰۱۰،ص۳۶۳) (مشکاۃ المصابیح،کتاب الزکاۃ،باب الإنفاق وکراھیۃ الإمساک،الحدیث:۱۸۶۰،ج۱،ص۳۵۳) ۲؎ (مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح،ج۳،ص۶۹۔۷۰)