Brailvi Books

ضیائے صدقات
105 - 408
کے لئے ہِل ہی نہیں سکتا ایسا کرنا تو سببِ ملامت ہوگا کہ بخیل، کنجوس کو سب بُرا کہتے ہیں اور نہ ایسا ہاتھ کھولو کہ اپنی ضروریات کے لئے بھی کچھ باقی نہ رہے۔ شانِ نزولـ: ایک مسلمان بی بی کے سامنے ایک یہودیہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سخاوت کا بیان کیا اور اس میں اس حد تک مبالغہ کیا کہ حضرت سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر ترجیح دیدی اور کہا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سخاوت اس انتہا پر پہنچی ہوئی تھی کہ اپنے ضروریات کے علاوہ جو کچھ بھی انکے پاس ہوتا سائل کو دے دینے سے دریغ نہ فرماتے یہ بات مسلمان بی بی کو ناگوار گذری اور انہوں نے کہا کہ انبیاء علیہم السلام سب صاحبِ فضل وکمال ہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے جُود و نوال میں کچھ شبہ نہیں لیکن سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا مرتبہ سب سے اعلیٰ ہے اور یہ کہہ کر انہوں نے چاہا کہ یہودیہ کو حضرت سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے جُود و کرم کی آزمائش کرادی جائے چنانچہ اُنہوں نے اپنی چھوٹی بچی کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا کہ حضور سے قمیص مانگ لائے اس وقت حضور کے پاس ایک ہی قمیص تھی جو زیب تن تھی وہی اُتار کر عطا فرمادی اور اپنے آپ دولت سرائے اقدس میں تشریف رکھی شرم سے باہر تشریف نہ لائے یہاں تک کہ اذان کا وقت آیا اذان ہوئی صحا بہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے انتظار کیا حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تشریف نہ لائے تو سب کو فکر ہوئی حال معلوم کرنے کے لئے دولت سرائے اقدس میں حاضر ہوئے تو دیکھا جسم مبارک پر قمیص نہیں ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔۱؎
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (خزائن العرفان)
Flag Counter