| ضیائے صدقات |
جس کو جمع کیا جائے فرمایا ذکر کرنے والی زبان اور شکر کرنے والا دل اور نیک بی بی جو ایماندار کی اسکے ایمان پر مدد کرے یعنی پرہیزگار ہو کہ اس کی صحبت سے طاعت و عبادت کا شوق بڑھے (رواہ الترمذی) مسئلہ: مال کا جمع کرنا مباح ہے مذموم نہیں جبکہ اسکے حقوق ادا کئے جائیں حضرت عبد الرحمن بن عوف اور حضرت طلحہ وغیرہ اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم مالدار تھے اور جو اصحاب کہ جمع مال سے نفرت رکھتے تھے وہ ان پر اعتراض نہ کرتے تھے۔۱؎
یونہی خرچ کرنے میں اعتدال بھی ضروری ہے کہ نہ تو بخل کیا جائے کہ باعثِ عذاب ہو اور نہ اتنا خرچ کرے جس کی وجہ سے اُس کے شب وروز مفلوج ہوجائیں اور خود حالتِ فقر کو پہنچ جائے۔چنانچہ قرآن مجید میں ہے:وَلَا تَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُوۡلَۃً اِلٰی عُنُقِکَ وَ لَا تَبْسُطْہَا کُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوۡمًا مَّحْسُوۡرًا ﴿۲۹﴾اِنَّ رَبَّکَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ ؕ
ترجمہ کنزالایمان: اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ پورا کھول دے کہ تو بہٹھ رہے ملامت کیا ہوا تھکا ہوا بیشک تمہارا رب جسے چاہے رزق کشادہ دیتا اور کستا ہے۔ (بني إسرائیل:۱۷/۲۹۔۳۰)
صدر الافاضل فرماتے ہیں:یہ تمثیل ہے جس سے اِنفاق یعنی خرچ کرنے میں اعتدال ملحوظ رکھنے کی ہدایت منظور ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ نہ تو اس طرح ہاتھ روکو کہ بالکل خرچ ہی نہ کرو اور یہ معلوم ہو گویا کہ ہاتھ گلے سے باندھ دیا گیا ہے دینےمدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (خزائن العرفان)