Brailvi Books

ضیائے صدقات
101 - 408
وَ اَنۡفِقُوۡا مِنۡ مَّا رَزَقْنٰکُمۡ مِّنۡ قَبْلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوۡلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیۡۤ اِلٰۤی اَجَلٍ قَرِیۡبٍ ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَکُنۡ مِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۰﴾
ترجمہ کنزالایمان: اور ہمارے دئیے میں سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں کسی کو موت آئے پھر کہنے لگے اے میرے رب تو نے مجھے تھوڑی مدّت تک کیوں مہلت نہ دی کہ میں صدقہ دیتا اور نیکوں میں ہوتا۔ (المنٰفقون:۶۳/۱۰)

    قرآن کریم میں مال و اولاد کو فتنہ فرمایا گیا ہے:
اِنَّمَاۤ اَمْوَالُکُمْ وَ اَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ ؕ وَ اللہُ عِنۡدَہٗۤ اَجْرٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۵﴾
ترجمہ کنزالایمان: تمھارے مال اور تمھارے بچے جانچ ہی ہیں اور اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے۔  (التغابن:۶۴/۱۵)

    ''تو لحاظ رکھو ایسا نہ ہو کہ اموال و اولاد میں مشغول ہوکر ثوابِ عظیم کھو بہٹھو''۔۱؎

    شیطان شب و روز وسوسے دلاتا رہتا ہے کہ خرچ کروگے تو ختم ہوجائے گا، سب کھِلادوگے تو کھاؤ گے کیا؟اور یوں انسان کو بخل پر ابھارتا ہے قرآن کریم میں اس قسم کے وہم پر تنبیہ فرمائی گئی ہے ۔چنانچہ ارشاد ہوتا ہے۔
مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

۱؎ (خزائن العرفان)
Flag Counter