| ضیائے صدقات |
حدیث شریف میں ہے کہ اللہ کو پسند ہے کہ بندے پر اس کی نعمت ظاہر ہو۔
مسئلہ: اللہ کی نعمت کا اظہار اخلاص کیساتھ ہو تو یہ بھی شکر ہے اور اس لئے آدمی کو اپنی حیثیت کے لائق جائز لباسوں میں بہتر پہننا مستحب ہے۔۱؎
بخیل شخص در اصل اپنا ہی نقصان کرتا ہے کیونکہ راہِ خدا عزوجل میں خرچ کیا ہوا مال بلاشبہ دنیا میں برکت اور آخرت میں اجر و ثواب کی صورت میں نفع بخش ہوتا ہے جبکہ بخیل ان دونوں(برکت وثواب) سے محروم رہتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ متنبّہ فرماتا ہے:ہٰۤاَنۡتُمْ ہٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ ۚ فَمِنۡکُمۡ مَّنۡ یَّبْخَلُ ۚ وَ مَنۡ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنۡ نَّفْسِہٖ ؕ وَ اللہُ الْغَنِیُّ وَ اَنۡتُمُ الْفُقَرَآءُ ۚ وَ اِنۡ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیۡرَکُمْ ۙ ثُمَّ لَا یَکُوۡنُوۡۤا اَمْثَالَکُمْ ﴿٪۳۸﴾
ترجمہ کنزالایمان: ہاں ہاں یہ جو تم ہوبلائے جاتے ہو کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو تو تم میں کوئی بخل کرتا ہے اور جو بخل کرے وہ اپنی ہی جان پر بخل کرتا ہے اور اللہ بے نیاز ہے اور تم سب محتاج اور اگر تم منہ پھیرو تو وہ تمہارے سوا اور لوگ بدل لے گا پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے۔ (محمد:۴۷/۳۸)
مال کے حقوق واجبہ ادا کرنے میں بخل کرنے والوں کی بوقتِموت چیخ وپکار لا حاصل ر ہے گی قرآن پاک پہلے ہی متنبہ کرچکا ہے چنانچہ ارشاد ہوتاہے:مدینـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (خزائن العرفان)