Brailvi Books

ضیائے صدقات
102 - 408
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡفِقُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا کَسَبْتُمْ وَمِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَکُمۡ مِّنَ الۡاَرْضِ ۪ وَلَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیۡثَ مِنْہُ تُنۡفِقُوۡنَ وَلَسْتُمۡ بِاٰخِذِیۡہِ اِلَّاۤ اَنۡ تُغْمِضُوۡا فِیۡہِ ؕ وَاعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ غَنِیٌّ حَمِیۡدٌ ﴿۲۶۷﴾اَلشَّیۡطٰنُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ وَیَاۡمُرُکُمۡ بِالْفَحْشَآءِ ۚ وَاللہُ یَعِدُکُمۡ مَّغْفِرَۃً مِّنْہُ وَفَضْلًا ؕ وَاللہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ
ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو اپنی پاک کمائیوں میں سے کچھ دو اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لئے زمین سے نکالا اور خاص ناقص کا ارادہ نہ کرو کہ دو تو اس میں سے اور تمہیں ملے تو نہ لوگے جب تک اس میں چشم پوشی نہ کرو اور جان رکھو کہ اللہ بے پرواہ سراہا گیا ہے شیطان تمہیں اندیشہ دلاتا ہے محتاجی کا اور حکم دیتا ہے بے حیائی کا اور اللہ تم سے وعدہ فرماتا ہے بخشش اور فضل کا اور اللہ وسعت والا علم والا ہے۔ (البقرۃ:۲/۲۶۷۔۲۶۸)

    صدر الافاضل مذکورہ آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: یعنی بخل کا اور زکوٰۃ و صدقہ نہ دینے کا اس آیت میں یہ لطیفہ ہے کہ شیطان کسی طرح بخل کی خوبی ذہن نشین نہیں کرسکتا اس لئے وہ یہی کرتا ہے کہ خرچ کرنے سے ناداری کا اندیشہ دلا کر روکے آجکل جو لوگ خیرات کو روکنے پر مصر ہیں وہ بھی اسی حیلہ سے کام لیتے ہیں۔۱؎

    حقوق واجبہ ادا کرنے میں بخل کرتے ہوئے مال جمع کرتے رہنے کا درد ناک عذاب ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
Flag Counter