Brailvi Books

وقفِ مدینہ
83 - 84
ہے شِفا ہی شِفا مرحبا مرحبا			آ کے خود دیکھ لیں قافلے میں چلو

آؤ علمائے دیں بہر تبلیغِ دیں 			مل کے سارے چلیں قافلے میں چلو

لُوٹ لیں رحمتیں خوب لیں برکتیں		خواب اچھے دِکھیں قافلے میں چلو

دور تاریکیاں کُفر کی ہو میاں			آؤ کوشش کریں قافلے میں چلو

بیوی بچے سبھی، خوب پائیں خوشی 		خیریت سے رہیں قافلے میں چلو

عاشقانِ رسول لائے جنّت کے پھول 		آؤ لینے چلیں قافلے میں چلو

زوجہ بیمار ہے قرض کا بار ہے			آؤ سب غم مٹیں قافلے میں چلو

بھاگتے ہیں کہاں آبھی جائیں یہاں		پائیں گے جنتیں قافلے میں چلو

کالا یرقان ہے ،کیوں پریشان ہے		پائے گا صحتیں، قافلے میں چلو

کافروں کو چلیں مشرکوں کو چلیں		دعوتِ دین دیں قافلے میں چلو

قلب بھی شاد ہو گھر بھی آباد ہو		شادیاں بھی رچیں، قافلے میں چلو

دین پھیلائیے سب چلے آئیے			مل کے سارے چلیں قافلے میں چلو

قرض اتر جائے گا، زخم بھر جائیگا 		سب بلائیں ٹلیں، قافلے میں چلو

سادگی چاہیے عاجزی چاہیے 			آپ کو گر چلیں قافلے میں چلو	

گر ہو عِرق النسا، یا عارضہ کوئی سا		پاؤ گئے صحتیں، قافلے میں چلو

خوب خود داریاں خوش اَخلاقیاں		آئیے سیکھ لیں قافلے میں چلو

دُور بیماریاں، اور پریشانیاں			ہوں گی بس چل پڑیں، قافلے میں چلو

عاشقانِ رسول لائے سنّت کے پھول		آؤ لینے چلیں قافلے میں چلو

عاشقانِ رسول آئے ہیں مرحبا!		خیر خواہی کریں قافلے میں چلو

عاشقانِ رسول لائیں جب قافلہ		خیر خواہی کریں قافلے میں چلو

کھانا لے کر چلیں ٹھنڈا شربت 	بھی لیں	خیر خواہی کریں قافلے میں چلو

ان پہ ہوں رحمتیں قافلے کا سُنیں 		خیر خواہی کریں قافلے میں چلو

یا خدا بخش دے ان مسلمان کو جو		خیر خواہی کریں قافلے میں چلو

یا خدا ہرگھڑی رَٹ ہو عطارؔکی			قافلے میں چلیں قافلے میں چلو