Brailvi Books

وقفِ مدینہ
82 - 84
(قافلے میں چلو )
از :شیخِ طریقت،امیرِ اہلسنّت ،بانی دعوتِ اسلامی حضرتِ علامہ مولانا محمد الیاس عطارؔ قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ    

لوٹنے رحمتیں قافلے میں چلو			سیکھنے سُنتیں قافلے میں چلو	

چاہو گر برکتیں قافلے میں چلو 		پاؤگے عظمتیں قافلے میں چلو

ہوں گی حل مشکلیں قافلے میں چلو		دور ہوں آفتیں قافلے میں چلو

تم قرضدار ہو یا کہ بیمار ہو 			چاہو گر راحتیں قافلے میں چلو

گرچہ ہوں گرمیاں یا کہ ہوں سردیاں 		چاہے ہوں بارشیں قافلے میں چلو

کوندیں گر بجلیاں یا چليں آندھیاں		چاہے اَولے پڑیں قافلے میں چلو

طیبہ کی جستجو حج کی گر آرزو			ہے بتا دوں تمہیں قافلے میں چلو

بارہ ماہ کے لیے تیس دن کیلئے		بارہ دِن دے ہی دیں قافلے میں چلو

گر مدینے کا غم چاہیے چشمِ نم			لینے یہ نعمتیں قافلے میں چلو

سُنتیں سیکھنے تین دِن کے لیے		ہر مہینے چلیں قافلے میں چلو

آنکھ بے نور ہے دِل بھی رنجور ہے 		ختم ہوں گردشیں قافلے میں چلو

اے میرے بھائیو! رٹ لگاتے رہو		قافلے میں چلیں قافلے میں چلو

اولیائے کرام ان کا فیضانِ عام			لوٹنے سب چلیں قافلے میں چلو

فون پر بات ہو یا ملاقات ہو			سب سے کہتے رہیں قافلے میں چلو

اولیاء کا کرم تم پہ ہو لاجَرم			مل کے سب چل پڑیں قافلے میں چلو

دوست کے گھر میں ہوں یا کہ دفتر میں ہوں	سب سے کہتے رہیں قافلے میں چلو

ماں جو بیمار ہو قرض کا بار ہو			رنج و غم مت کریں قافلے میں چلو

دَرس دیں یا سُنیں یا بیان آپ دیں		بعد اعلاں کریں قافلے میں چلو

رب کے در پر جھکیں التجائیں کریں		بابِ رحمت کُھلیں قافلے میں چلو

عاشقانِ رسول ان سے رحمت کے پھول	آؤ لینے چلیں قافلے میں چلو

دِل کی کالک دُھلے مرضِ عصیاں ٹلے 		آؤ سب چل پڑیں قافلے میں چلو

عاشقانِ رسول آئے لینے دُعا			آؤ مل کر چلیں قافلے میں چلو

قرض ہو گا ادا آکے مانگو دُعاء			پاؤ گے برکتیں قافلے میں چلو

دکھ کا درماں ملے آئیں گے دِن بھلے		ختم ہوں گردشیں قافلے میں چلو

غم کے بادل چھٹیں اور خوشیاں ملیں		دل کی کلیاں کھلیں قافلے میں چلو

ہو قوی حافظہ ٹھیک ہو ہاضمہ 			کام سارے بنیں قافلے میں چلو
علم حاصل کرو جہل زائل کرو		پاؤ گے رفعتیں قافلے میں چلو

تنگدستی مٹے دور آفت ہٹے			لینے کو برکتیں قافلے میں چلو

ٹیڑھی ہوں ہڈّیاں ہوں گی سیدھی میاں	درد سارے مٹیں قافلے میں چلو

دردِ سر ہو اگر دُکھ رہی ہو کمر			پاؤ گے صحتیں قافلے میں چلو

غیبی امداد ہو گھر بھی آباد ہو			چل کے خود دیکھ لیں قافلے میں چلو

ہے طلب دید کی دید کی عید کی 		کیا عجب وہ دِکھیں قافلے میں چلو

رزق کے درکُھلیں برکتیں بھی ملیں		لطفِ حق دیکھ لیں قافلے میں چلو

نوکری چاہیے آئیے آئیے 			قافلے میں چلیں قافلے میں چلو

ہے نبی کی نظر قافلے والوں پر			آؤ سارے چلیں قافلے میں چلو

آکے تم با ادَب، دیکھ لو فضلِ رب		مدنی مُنّے ملیں قافلے میں چلو

چشم ِ بینا ملے سُکھ سے جینا ملے			پاؤ گے راحتیں قافلے میں چلو

کھوٹی قسمت کھری، گود ہوگی ہری		مُنّا مُنِّی ملیں قافلے میں چلو

مرض گمبھیر ہو،گرچہ دِلگیر ہو		ہوں گی حل مشکلیں قافلے میں چلو

آفتوں سے نہ ڈر، رکھ کرم پر نظر		روشن آنکھیں ملیں، قافلے میں چلو

غم کے بادل چھٹیں اور خوشیاں ملیں		دل کی کلیاں کھلیں قافلے میں چلو

آپ کو ڈاکٹر، نے گو مایوس کر			بھی دیا مت ڈریں، قافلے میں چلو

دل میں گر درد ہو ڈر سے رُخ زرد ہو		پاؤ گے راحتیں قافلے میں چلو

ہو گا لطفِ خدا آؤ بھائی دُعا			مل کے سارے کریں قافلے میں چلو

زخم بگڑے بھریں پھوڑے پھنسی مٹیں		گرہوں مَسّے جھڑیں قافلے چلو

غم سے روتے ہوئے جان کھوتے ہوئے	مرحبا!ہنس پڑیں! قافلے میں چلو

باپ بیمار ہو، سخت بیزار ہو			پائے گا صحتیں قافلے میں چلو

اولیاء کا کرم، خوب لوٹیں گے ہم 		آؤ مل کر چلیں قافلے میں چلو

وَا ہو بابِ کرم،دُور ہوں سارے غم		پھر سے خوشیاں ملیں، قافلے میں چلو

دُھوپ میں چھاؤں میں، جاؤں میں آؤں میں	سب یہ نیت کریں، قافلے میں چلو

آؤ اے عاشقیں، مل کے تبلیغِ دیں		کافروں کو کریں، قافلے میں چلو

ہوتی ہیں سب سنیں نور کی بارشیں 		سب نہانے چلیں قافلے میں چلو

سنتیں عام ہوں، عام نیک کام ہوں		سب کریں کوششیں، قافلے میں چلو

کافر آجائیں گے راہِ حق پائیں گے		ان شاء اللہ چلیں قافلے میں چلو

آپریشن نہ ہو، کوئی الجھن نہ ہو		غم کے سائے ڈھلیں، قافلے میں چلو

کُفر کا سر جُھکے دیں کا ڈَنکا بجے			ان شاء اللہ چلیں قافلے میں چلو
Flag Counter