میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کیلئے خود بھی وقت دیجئے اور اپنی اولاد کو بھی ایسی تربیت دیجئے کہ يہ آپ کیلئے دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی سہارا بنے ، اس ضمن میں ایک حکایت ملاحظہ فرمائيے اور اپنی اولاد کی دینی تربیت کیجئے:
چنانچہ ایک صاحِب جن کے3بیٹے تھے، اُنہوں نے اپنے 2 بڑے بیٹوں کو خوب دُنیوی تعلیم دِلوائی ،محنت کروائی،نتیجۃً ایک بیٹا ڈاکٹر اور دوسراانجینئر بن گیا۔ماں باپ خوشی سے پُھولے نہ سماتے تھے کہ ہم ڈاکٹر اور انجینئر کے والِدین بن گئے ہیں ۔ تیسرا بیٹا جو پڑھائی میں ذرا کمزور تھا،مِڈل میں آکر فیل (Fail)ہوگیاتو والد نے غُصّے میں آکر سزا کے طور پر اُسے حفظ ِقرآن کے لئے مدرسے میں داخِل کروا دیا۔بدقسمتی سے ہماری نیچ سوچ یہی ہے کہ جو کسی کام کا نہ ہومثلاًلنگڑا،لُولا،اندھا ،بہرا ،شرارتی،ضِدّی ،کُندذہن وغیرہ اُسے مدرسے وغیرہ میں داخل کروا دو،اللہ عزوجلہمیں مدنی سوچ عطا فرمائے ۔اٰمین
بہرحال جس بچے کو سزا کے طور پر مدرسے میں داخل کروایا گیا تھا اللہ تبارک و تعالیٰ نے اُس پر کرم فرمایا اور اُسے اپنا پاک کلام حِفظ کرنے کی سعادت عطا فرمائی۔کچھ عرصے بعد جب اُن صاحِب کا انتقال ہوا توحافظِ قرآن بیٹے کو خواب میں ملے ۔حافظ