Brailvi Books

وقفِ مدینہ
72 - 84
    آج ہمیں زندگی میں یکمشت 12ماہ ہر 12ماہ میں 30دن اور عمر بھر ہر ماہ3دن کیلئے راہِ خدا عزوجل میں سفر کرنا بے حد مشکل محسوس ہوتا ہے ۔ سوچئے تو سہی! اگر ہم میں سے ہر ایک اپنی مجبوریوں میں پھنس کر رہ گیا تو آخر کون اِن مدنی قافلوں میں سفر کریگا؟ کون ساری دنیا کے لوگوں تک نیکی کی دعوت پہنچائے گا؟ تاجدارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پیاری پیاری اُمّت کی خیر خواہی کون کریگا؟ کون اَغْیار کی وضع قطع پر اِترانے والے مسلمانوں کو سنّتوں کے سانچے میں ڈھلنے کا ذہن دے گا؟ کون انہیں يہ مدنی مقصد اپنا نے کی ترغیب دے گا کہ ''مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ۔ ان شاء اللہ عزوجل۔''

    یادرکھئے !آج لوگوں کی نگاہیں دعوتِ اسلامی کے مدنی قافلوں کی منتظر ہیں۔ ہر مسجد، ہر گاؤں، ہر شہرسے يہ صدا سنائی دے رہی ہے، ''مدنی قافلوں کی اَشَد ضرورت ہے '' کیونکہ مسلمانوں کی اِصلاح ، مسجدوں کی آبادکاری ، ساری دنیا میں سُنّتوں کی دھوم مچانے ، پوری دنیا میں نیکی کی دعوت عام کرنے اور ہر اسلامی بھائی کی مدنی تربیت کا بہترین ذریعہ مدنی قافلے ہیں۔ امیرِ اہلِسنت ، شیخِ طریقت ، حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس قادری دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں کہ دعوتِ اسلامی کی بقاء مدنی قافلوں میں ہے ۔

    لہٰذا ہمیں نہ صرف خود مدنی قافلے میں سفر کرنا ہے بلکہ اپنے گھر ، مسجد ، محلے ، آفس، اسکول ، کالج، فیکٹری، دکان ، مارکیٹ، بازار اورہر مقام پر دیگر اسلامی بھائیوں کو بھی انفرادی کوشش کے ذريعے مدنی قافلوں میں سفر کی ترغیب دلانی ہے ۔ ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ۔ (نصابِ مدنی قافلہ ص۱۱،۱۲،۱۳ مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)