Brailvi Books

وقفِ مدینہ
71 - 84
     ''اِسی طرح ایک مُلک کے ایک قصبے میں 23مئی 1988ء کو مسجد پر ناجائز قبضہ کر کے اس میں مورتیاں وغیرہ رکھ دی گئیں۔''

    ''اِسی طرح ایک اخبار میں ایک خبر شائع ہوئی کہ جرمن کے ایک شہر ہائیڈل برگ میں تُرک مسلمانوں کی ایک مسجد کو آگ لگا کر شہید کر دیا ۔''     بلغاریہ کے ایک مفتی صاحب نے بتایا کہ کمیونسٹ انقلاب سے پہلے بلغاریہ میں1200مساجد موجود تھیں جن میں سے اکثر کوکمیونسٹوں نے گرجا گھر اسٹور اور عجائب گھر میں تبدیل کر دیا۔''

    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ان سب حقائق کے باوجود ہم ابھی تک خوابِ غفلت میں ہیں۔ گھریلو آسائشیں چھوڑ کر چند دن کے لئے راہِ خدا عزوجل میں سفر کے لئے ہمارا نفس تیار نہیں ہوتا ، ہاں ! دنیا کی مادی دولت کمانے کیلئے اپنے گھر والوں سے برسہا برس کے لئے سینکڑوں میل دور جانے کے لئے فوراً تیار ہو جاتے ہیں۔

    کیا مسلمانوں کی خستہ حالی، مسجدوں کی ویرانی ، سینما گھروں کی آبادی ، فیشن کی یلغار ، مغربی تہذیب کی طُومار ، گھر گھر ٹی وی کیبل سسٹم ، انٹر نیٹ اور وی سی آر، قدم قدم پر نا فرمانیوں کی بھر مار، ہائے مسلمان کا بگڑا ہوا کردار، ۔۔۔۔۔۔ يہ سب کچھ ہمیں پکار پکار کر دعوتِ فکر نہیں دے رہا ہے کہ ''ہمیں ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کے لئے مدنی قافلوں کا ضرور بالضرور مسافر بننا چاہيے۔''