Brailvi Books

وقفِ مدینہ
68 - 84
چلا جا رہا ہے ۔ مسلمان اپنے شعائِر تک بھولتا چلا جا رہا ہے ۔

    آہ ! مسلمانوں کے عیش کوشیوں دولت کمانے کی ہَوَس، مغرِبی تہذیب سے قلبی لگاؤ ،اِنگریزی فیشن سے اُلفت، سُنّتوں سے رُو گردانی ، نیکی کی دعوت میں کوتاہی کے سبب موقع پا کر کُفّار نے مسلمانوں کی آبادیوں کوخُرْد بُرْد کر ڈالا۔ آہ! جہاں سینکڑوں سال اسلامی حکومت رہی اب وہاں پر نماز پڑھنے پر پابندی ہے اور قرآنِ پاک رکھنا ، اس کی تلاوت کرنا ، حتیٰ کہ کلمہ تک پڑھنا سخت ممنوع ہے ۔
آہ! اسلام تیرے چاہنے والے نہ رہے 

جن کا تو چاند تھا افسوس وہ ہالے نہ رہے
مسجدوں کی وِیرانی
    آہ! سارا گوٹھ ہی داڑھی منڈا:بابُ الاسلام (سندھ) کے ضلع دادومیں 30 دن کا ایک مدنی قافلہ سفر پر تھا ۔ ایک گوٹھ(گاؤں) میں 3 دن کے مدنی قافلہ کی ترکیب بنائی گئی ۔ جب قافلے والے ایک مسجد میں پہنچے تو کسی مؤذِّن کے موجودنہ ہونے کی بناء پر خود ہی اذان دی۔ جب جماعت کا وقت ہوا تو چند نمازی مسجد میں آئے اور قافلے والوں کو کہنے لگے کہ آپ ہی نماز پڑھائیں۔ امیرِ قافلہ نے جواب دیا، ''امام صاحب کہاں ہیں؟ وہ ہی نماز پڑھائیں تو زیادہ بہتر ہے۔'' لوگوں نے بتایا کہ ''يہاں مسجد میں نماز کی جماعت نہیں ہوتی بلکہ سب لوگ اپنی اپنی نماز پڑھتے ہیں، کیونکہ پورے گوٹھ میں ایک بھی شخص ایسا نہیں ہے جو امام بن سکے جس کی ایک وجہ يہ ہے کہ اس پورے گوٹھ میں کوئی شخص بھی ایسا نہیں جس کی سُنّت کے مطابق داڑھی شریف ہو۔'' ملخصاً (نصابِ مدنی قافلہ ص۱۰)
Flag Counter