Brailvi Books

وقفِ مدینہ
66 - 84
شہا عطارؔ پر ہر آن رحمت کی نظر رکھنا 

کرے دن رات بس سنت کی خدمت یا رسول اللہ
    تحریری کام کی یکسوئی کیلئے آپ مہینوں وطن سے دور اپنے بال بچوں سے جدائی گوارہ کرتے اور تنہائی میں انجمن آرائی فرماتے ہیں۔ آپ نے اپنے بچوں کو بھی بچپن ہی سے دینِ اسلام کی اعلیٰ ترین تعلیمات سیکھنے اور سکھانے کیلئے وقف کیا ہوا ہے ۔

    آپ نے ۱۴۱۶ھ کو مرکز الاولیاء لاہور میں سنتوں کی ترویج و اشاعت کیلئے 12ماہ دئيے ۔ سنتوں کی عظیم خدمت کے مقدس جُرم کی وجہ سے اِسی سفر میں آپ پر 25رجبُ المرجب کو قاتلانہ حملہ بھی ہوا نتیجتاً 2مبلغینِ دعوتِ اسلامی محمد سجاد عطاری علیہ رحمۃ الباری اور الحاج محمد اُحُد رضا عطاری علیہ رحمۃ الباری جامِ شہادت نوش کر گئے ۔ شیخِ طریقت ، امیرِ اہلِسنت دامت برکاتہم العالیہ نے اس واقعہ ہائلہ (ہَا۔اِ۔لَہْ)يعنی ہولناک واقعہ کے بعد بارگاہِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم میں چند اشعار بطورِ اِستِغاثہَ پیش کئے ، اُن میں سے چند اشعار ملاحظہ فرمائيے اور امیرِ اہلِسنت دامت برکاتہم العالیہ کے عشق و
محبتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ، عزم و ہمتِ احیاءِ سنتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا اندازہ کیجئے:
Flag Counter