Brailvi Books

وقفِ مدینہ
64 - 84
واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا

اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا

                             (حدائقِ بخشش)
    سلطانُ الہند ، خواجہ غریبِ نواز معینُ الدین چِشتی اجمیری علیہ رحمۃ اللہ القوی نے بھی اپنی ضعیفہ و بیوہ ماں سے حُقُوق معاف کروا کر اِجازت لے کرتقریباًصرف 16سال کی عمر میں بُخارا، سمر قند، نیشا پور کا سفر اختیار کیا اور پھر مدینے کے تاجور، نبیوں کے سرور، حضورِ انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہِ منور میں مدینہ طیبہ حاضر ہوئے تو معینُ الدّین (دین کا مدد گار ) کا خِطاب عطا ہوا اور نیکی کی دعوت کی خاطر ہِند کے شہر اجمیر جانے کاحکم ہوا ۔آپ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ) کی نیکی کی دعوت کی برکت سے بیشمار کفار حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے ۔آپ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ) نے ساری زندگی رسولِ ہاشمی ، مکی مدنی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ارشاداتِ عالیہ کو عام کرنے کے لئے وقف فرما دی ۔
یا خواجہ کرم کیجئے ہوں ظُلمتیں کافور

باطِل نے بڑے زور سے سر اپنا اٹھایا

                          (ازامیرِاہلسنت دامت برکاتہم العالیہ)
    دینِ اسلام کی تعلیمات کو عام کر نے کیلئے ہی حضور داتا گنج بخش علی ہجویری علیہ رحمۃ اللہ القوی نے شہرِ غَزْنی (افغانستان) کے محلے ہجویر سے سفر کیا اور مرکزُ الاولیا ء لاہور
Flag Counter