صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا مدنی پیغام سارے عالم میں پہنچانے کے لئے تن، من، دھَن قربان کئے چنانچہ
10سِنِ ہجری حجۃُ الوداع کے موقع پر کم و بیش 1 لاکھ 24ہزار صحابہ کرام علیہم الرضوان میدانِ عرفات میں جمْع تھے ، محسنِ انسانیت ، تاجدارِ رسالت ، شہنشاہِ نبوت، محبوب ِ ربُّ العزت عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے جوجامِع اورجلیلُ القدْر خُطبہ اِرشاد فرمایا،اُس میں مختلف قسم کے حُقُوق اور فرائض کا تذکرہ فرمایااور بار بار اِس بات کی تائید لی کہ کیا میں نے تم کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے احکامات پہنچا دئيے ہیں ، پھراِرشاد فرمایا جو حاضر ہیں اِن پر لازم ہے کہ جو يہاں موجود نہیں اُن تک میرے يہ پیغامات پہنچا ديں، يہ بھی فرمایا اللہ تعالیٰ اُس شخص پر رحم فرمائے، جس نے میری بات کو سُنا اور دوسروں تک پہنچایا، بسا اوقات وہ آدمی جو فِقہ کے کسی مسئلے کا جاننے والا ہے وہ خود فَقیہ نہیں ہوتا اور بسا اوقات حاملِ فِقہ کسی ایسے شخص کو بات پہنچاتا ہے جو اِس سے زیادہ فَقیہ ہوتا ہے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حجۃُ الوداع کے موقع پر کم و بیش 1لاکھ 24ہزار صحابہ کرام علیہم الرضوان تھے اور اِس وقت مدینہ منورہ زادھا اللہ شرفاً و تعظیماً کے مشہور قبرِستان جنّت البقیع میں ایک رِوایت کے مطابق تقریباًصرف10ہزار صحابہ کرام علیہم الرضوان آرام فرما ہیں۔ہر صحابی کو مدینہ منورہ زادھا اللہ شرفاً و تعظیماً سے پیار تھا مگر مدینے والے کا مدنی پیغام ساری دُنیا میں عام کرنے کے لئے یہ حضراتِ قُدسیہ ساری دُنیا میں پھیل گئے۔