| وقفِ مدینہ |
گیا ، يہاں تک کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے خانہ کعبہ پر اشکبار نگاہ ڈالتے ہوئے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے حکم سے ہجرت فرمائی۔
مدینہ منورہ پہنچنے پر بھی سکون سے نہ بیٹھنے دیا اور کفارِ بد اطوار کا غیظ و غضب اِس قدر بڑھا کہ يہ لوگ آقائے مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ساتھ ساتھ اہلِ مدینہ کی جان کے بھی دشمن ہو گئے اِن کی طرف سے جنگیں مسلط کر دی گئیں اور یوں 27غَزَوات اور 47سرایا کا سلسلہ ہوا ۔وہ دینِ حق کے واسِطے طائف میں زخم کھائیں افسوس ہم پھنسے رہیں بس کاروبار میں سرکار سنّتوں کا مُبلِّغ بنائيے کرتا رہوں بیان سَدا اَشْکبار میں تبلیغِ دین کیلئے دَر دَر پھروں اے کاش! طالِب ہوں ایسے وَلْوَلے کاکِردِگار میں
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
صحابہ علیہم الرضوان کی قربانیاں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!صحابہ کرام علیہم الرضوان نے بھی محبوبِ ربُّ الانام