Brailvi Books

وقفِ مدینہ
60 - 84
تعالیٰ کی رِضا کے لئے نکل آیا تو اُس نے حضرتِ سیدُنا ابراہیم خلیل اللہ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام اور حضور شہنشاہِ مدینہ، سرورِ سینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی سُنت پر عمل کیا لہٰذا جنّت میں ان مُقتدر(مُق۔تَ۔دِر) يعنی مُعزّز ہستیوں کا پڑوس نصیب ہوگا۔ 

                                                     (تنبیہ الغافلین ،حصہ اول ،ص۱۴۲)
پڑوسی خُلد میں عطارؔ کو اپنا بنالیجے

جہاں ہیں اتنے اِحساں اور اِحساں یارسول اللہ
آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم  کی قربانیاں
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! راہِ خدا عزوجل میں ہمارے آقائے مہربان ، رحمتِ عالمیان، مکی مدنی سلطان، رسولِ ذیشان، محبوبِ رحمان عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے جو قربانیاں دیں اُس سے کون واقف نہیں ، اعلانِ رسالت ہوتے ہی کفارِ ناہنجار کی طرف سے جورو جفا کی آندھیاں چلنے لگیں اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جانے لگے۔ آہ! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم پر طرح طرح کے الزامات عائد کئے گئے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو معاذ اللہ عزوجل جھوٹا، کاہن ، جادوگر کہا گیا ، سماجی قطع تعلق (سوشل بائیکاٹ)کیا گیا ، شعبِ ابی طالب کی گھاٹی میں محصور کیا گیا ، راہ میں کانٹے بچھائے گئے ،پتھروں کی بارش کی گئی ، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم پر ایمان لانے والوں پر قاتلانہ حملے کئے گئے ، ہجرتوں پر مجبور کیا
Flag Counter