| وقفِ مدینہ |
ہجرت کی خواہ ایک بالِشت ہی سفر کیا ہو تو اُس نے جنَّت اپنے لئے لازم کرلی اور وہ حضرتِ سیدُنا ابرا ہیم خلیل اللہ علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃ والسلام اور ہمارے میٹھے مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ساتھ ہوگا کیونکہ حضرت سیدُنا ابراہیم علیہ السلام نے بھی عِراق سے شام کی طرف ہجرت کی تھی جیسا کہ قرآنِ مجید میں اللہ عزوجل کا فرمانِ عالیشان ہے:پ ۲۰،العنکبوت آیت۲۶
وَقَالَ اِنِّیۡ مُہَاجِرٌ اِلٰی رَبِّیۡ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الْعَزِیۡزُ الْحَکِیۡمُ ﴿۲۶﴾
ترجمہ کنزالایمان : ''اور ابراہیم نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں بیشک وہی عزت و حکمت والا ہے''۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے: پ۲۳، الصّٰۤفّٰت۹۹
اِنِّیۡ ذَاہِبٌ اِلٰی رَبِّیۡ سَیَہۡدِیۡنِ ﴿۹۹﴾
ترجمہ کنز الایمان : ''میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں اب وہ مجھے راہ دے گا''۔
(يعنی اپنے ربّ عزوجل کی اِطاعت اور رِضا کی طرف جانے والا ہوں۔)
(تنبیہ الغافلین ،حصہ اول ،ص۱۴۲)گُناہوں کی جگہ سے ہِجرت کرنے والا سرکارصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا پڑوسی بنے گا
فقیہ ابو اللیث سمر قندی علیہ رحمۃ اللہ الغنی'' تنبیہہ الغافلین ''میں مزید فرماتے ہیں کہ سرکارِ نامدار، مَدَنی تاجدار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت فرمائی تھی تو جو شخص ایسی جگہ میں ہو جہاں گناہ ہوتے ہیں اور وہاں سے اللہ