تعالیٰ کے سارے وعدے سچے ہیں دیکھو اُس نے مہاجِرِین سے وعدہ فرمایا کہ تم کو بہت زمین دی جائے گی اور فراخی رزق عطا ہو گی يہ وعدہ جس شان سے پورا ہوا اس پر تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان مکہ معظمہ سے کس حالت میں مدینہ منورہ آئے اور پھر یہاں آکر کس شان و شوکت کے مالک ہوئے ۔ (۳) ہجرت وہی قبول ہے جو رِضائے الہٰی (عزوجل)کے لئے ہو ۔ بیوی ، زمین ، پیسہ کمانے کی نیت سے ترکِ وطن اسلامی ہجرت نہیں اورنہ يہ شخص مُہاجِر ہے ۔ (۴) مسلمان مسافر تو بنتا ہے اپنی بستی سے نکل کر مگر مُہاجِر بن جاتا ہے اپنے دروازے کی چوکھٹ سے قدم نکال کر۔ يہ ربّ تعالیٰ کی بندہ نوازی ہے ۔ (۵) ہجرت اسلامی عبادت ہے مگر اِس میں اللہ و رسول (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم )کو راضی کرنے کی ہدایت کی گئی لہٰذا نماز ، روزہ، حج و زکوٰۃ بلکہ ایمان و اسلام و جہاد ہر عبادت میں اللہ و رسول (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم )کو راضی کرنے کی نیت کرنی چاہے۔(تفسیرِ نعیمی جلد ۵ ، ص ۳۸۷،۳۸۸)