Brailvi Books

وقفِ مدینہ
57 - 84
    مفسرِ قرآن ، خلیفہ اعلیٰ حضرت صدر الافاضل مفتی حافظ سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی اس آیتِ کریمہ کا شانِ نزول تفسیر ''خزائن العرفان'' میں یوں فرماتے ہیں : اِس سے پہلی آیت جب نازل ہوئی توحضرتِ سیدنا جندع بن ضمیرہ لیسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو سُنا يہ بہت بوڑھے شخص تھے، کہنے لگے کہ میں مستثنیٰ لوگوں میں تو ہوں نہیں کیونکہ میرے پاس اتنا مال ہے کہ جس سے میں مدینہ طیبہ ہجرت کر کے پہنچ سکتا ہوں، خدا (عزوجل)کی قسم مکہ مکرمہ میں اب ایک رات نہ ٹھہروں گا مجھے لے چلو چنانچہ اِن کو چارپائی پر لے کے چلے ''مقام تَنْعِیم'' میں آکراِن کا اِنتقال ہو گیا آخر وقت انہوں نے اپنا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا اور کہا یاربّ(عزوجل) يہ تیرا اور يہ تیرے رسول(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ) کا میں اِس پر بیعت کرتا ہوں جس پر تیرے رسول (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ) نے بیعت کی يہ خبر پاکر صحابہ کرام(علیہم الرضوان) نے فرمایا کاش! وہ مدینہ پہنچتے تو اِن کا اجر کتنا بڑا ہوتا اور مشرک ہنسے اور کہنے لگے کہ جس مطلب کے لئے نکلے تھے وہ نہ ملا اس پر يہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔

    مفسرِ شہیر ، حکیم الامت حضرتِ علامہ مولانا مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان اپنی مشہور ومعروف تفسیر ، تفسیرِ نعیمی جلد ۵ ،ص۳۸۷،۳۸۸ میں اس آیت کریمہ کے تحت فرماتے ہیں : (۱)اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں ہجرت بہت اعلیٰ عبادت ہے۔ رب تعالیٰ نے اِس پر بڑے اجر و ثواب کا وعدہ فرمایا ہے دیکھو ہمارا اسلامی سِن ہجری کہلاتا ہے کہ يہ سیدِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ہجرت شریف کی یاد گار ہے قریباً سارے انبیاءِ کرام (علیہم الصلوٰۃ والسلام) نے ہجرت فرمائی ہے ،ہجرت سنتِ انبیاء (علیہم الصلوٰۃ والسلام) ہے ۔ (۲) اللہ