میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت سَیِّدُنا معاذرضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے وہ کتنی جاں سوز گھڑیاں ہو ں گی کہ جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سُلطانِ زمن،نانائے حُسین وحَسن صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم و رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے حکم پر راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں مُلکِ یمن کا سفر
کرنے کی سعادت حاصل کی۔اِس سعادت کو پانے کے لئے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کتنی بڑی قربانی دی کہ اپنا گھر بار تو چھوڑا ہی ساتھ ہی ساتھ دیارِ سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم یعنی مدینہ اور کائنات کی سب سے اچھی صحبت یعنی صحبتِ سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی بھی قُربانی دی اور روتے ہوئے راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ کے مُسافر بنے۔
پئے نیکی کی دعوت تو جہاں رکھے مگر اے کاش! میں خوابوں میں پہنچتا ہی رہوں اکثر مدینے میں
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد