Brailvi Books

وقفِ مدینہ
53 - 84
پھر رسولوں کے افسر،نبیوں کے سرور،محبوبِ داور عَزَّوَجَلَّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم واپس ہوئے اور اپنا چہرہ مبارک مدینہ منوّرہ کی طرف کر کے فرمایا:''لوگوں میں مجھ سے قریب تر لوگ پرہیزگا ر ہیں چاہے وہ کہیں بھی ہوں۔''

(مشکوٰۃالمصابیح کتاب الرقاق الفصل الثالث ص۴۴۵)
5غیبی خبریں
    مُفَسّرِ شہیر،حکیمُ الامّت حضرتِ عَلّامہ مولانا مُفتی احمد یا رخان علیہ رحمۃ المنّان''مِراٰۃ شرحِ مشکوٰۃ''میں اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں:''حضرت سَیِّدُنا مَعَاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یَمَن کا حاکِم بنا کربھیجا تو مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم حسبِ معمول ''ثنیۃ الوداع''کے مقام تک تشریف لے گئے۔''فرماتے ہیں کہ:''حضرتِ سَیِّدُنا مَعَاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بحکمِ سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سوار تھے۔سُنّت یہی ہے کہ جس کو وداع کرو اُس کو کچھ دُور پہنچانے کے لئے ساتھ پیدل جاؤ۔''فرماتے ہیں اِس فرمانِ عالیشان کہ:''تم میری قبر پر آؤ گے جو اِسی مسجد میں ہو گی'' میں5غیبی خبریں ہیں(1)عنقریب ہم وفات پا جائیں گے(2)ہماری وفات مدینہ منوّرہ میں ہو گی(3)ہماری قبرِ انور مسجدِ نبوی شریف (علیٰ صاحِبِھَا الصلوٰۃ والسلام)میں ہو گی(4)(حضرت سَیِّدُنا) معاذ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)میری زندگی میں نہیں بعد میں وفات پائیں گے(5)(حضرت سَیِّدُنا) معاذ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)میری قبر کی زیارت کرنے آئیں گے۔''(مراٰۃ شرح مشکوٰۃج۷ ص۵۵ ملخّصاََ )
Flag Counter