Brailvi Books

وقفِ مدینہ
55 - 84
انبیاء علیہم السلام کی قربانیاں
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!انبیاءِ کرام و صحابہ و اولیاء عظام علیہم الصلوٰۃ والسلام و رضی اللہ عنہم نے دینِ اسلام کی خاطر فقط اللہ تبارک وتعالیٰ کی رِضا و خوشنودی کیلئے دشوار گزار سفر کئے ، تکلیفیں جھیلیں، باطِل کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، ہجرتیں کیں ، زِندگیاں وقف کیں اور اپنی مقدس جانوں کا نذرانہ پیش کیا چنانچہ :

    حضرتِ سیدنا ابو عُبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا :یا رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم!قیامت کے دن کن لوگوں کو سب سے زیادہ عذاب ہو گا؟آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا،جس نے نبی کو قتل کیا یا نیکی کا حکم دینے والے اور بُرائی سے روکنے والے کو قتل کیا پھر رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: پ۳ سورۃ اٰل عمران آیت ۲۱
اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکْفُرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللہِ وَیَقْتُلُوۡنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیۡرِ حَقٍّ ۙ وَّیَقْتُلُوۡنَ الَّذِیۡنَ یَاۡمُرُوۡنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ ۙ فَبَشِّرْہُمۡ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۲۱﴾
ترجمہ کنز الایمان:وہ جو اللہ کی آیتوں سے منکِر ہوتے اور پیغمبروں کو ناحق شہید کرتے اور انصاف کا حکم کرنے والوں کو قتل کرتے ہیں انہیں خوشخبری دو درد ناک عذاب کی۔

    پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا اے ابو عُبیدہ! (رضی اللہ عنہ) بنی اسرائیل نے صبح کے اوّل وقت میں ۴۳ نبیوں کوشہید کر دیا،بنی اسرائیل کے ۱۱۲ عبادت گزار علماء کھڑے ہوئے انہوں نے ان کو نیکی کا حکم دیا اور بُرائی سے روکا تو بنی اسرائیل نے اس دن کے آخری حصہ میں ان سب کو بھی شہید کر دیا۔

(جامع البیان ج ۳ ص ۱۴۵ )
Flag Counter