Brailvi Books

وقفِ مدینہ
51 - 84
کروانے کی بھی سعادت پانے میں بھی کامیابی نصیب ہوئی۔میں نے سُن رکھا تھا کہ مدنی قافلے میں سفر کے دوران اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں کی جانے والی دعائیں بہت جلد قبول ہوتی ہیں ۔چونکہ میرے والد صاحب تقریباً11 سال سے ایک عارضے میں مبتلا تھے ، کئی بارطبیعت اتنی بگڑجاتی کہ سب گھر والے والد صاحب کی زندگی سے مایوس ہوجاتے،مدنی قافلے کے دوران میں نے اللہ ربُّ العزت عَزَّوَجَلّ کی رحمت پر قوی اُمید رکھتے ہوئے مدنی قافلے کی برکتوں سے والد صاحب کیلئے بکثرت دعا کرنا شروع کی ۔

    ایک دن گھر فون کرکے والد صاحب کی طبیعت کے بارے میں اِستِفْسار کیا تو پتہ چلا کہ طبیعت پہلے سے بہتر ہورہی ہے ،سفر جاری تھا ، میرے والد صاحب جو کہ طبیعت کی خرابی کے باعث بعض اوقات بول وبراز بھی بستر ہی پر کردیا کرتے تھے ، طویل علالت نیز80 سال کے بڑھاپے کے باوجود مدنی قافلے میں مانگی جانے والی دعاؤں کے طفیل نہ صرف صحت یاب ہوگئے بلکہ خود کھیتوں میں جاکر کام بھی کرنے لگے ۔

     مجھے خود بھی خارِش کا ایسا عارِضہ تھا کہ نہاتا ، پسینہ آتا یا کوئی ہلکی سی چَپَت لگاتا تو ایسی بے چینی ہوتی کہ بعض اوقات گھنٹوں بے چین رہتا،6 سال تک علاج کرایا مگر اِفاقہ نہ ہوا ،الحمد للہ عَزَّوَجَلّ مدنی قافلہ میں مانگی گئی دعاؤں کے طفیل میرایہ عارِضہ بھی جاتارہا۔اب میرا یہ مدنی ذہن ہے کہ جب تک زندہ رہوں مدنی قافلوں میں سفر کرتا رہوں،'' چل مدینہ'' کی سعادت پاؤں اور بِالآخر زیرِ گنبدِ خضرٰی جلوہ محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم میں موت اور جنّت البقیع میں مدفن پاؤں ۔