Brailvi Books

وقفِ مدینہ
37 - 84
بانی دعوتِ اسلامی، پیکرِ علم وحکمت ،شیخِ طریقت ،عالمِ شریعت ،آفتابِ  قادریت،ماہتابِ رضویت،امیرِ اہلسنت حضرتِ علامہ مولانا محمد الیاس عطارؔ قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ نے چند اسلامی بھائیوں کے ساتھ مل کر اس مدنی تحریک کا مدنی کام شروع کیا۔اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت و عطا سے میٹھے مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی عِنایت،صحابہ کرام علیہم الرضوان کی بَرَکت،اولیاءِ عظام کی نسبت اور علماء و مشائخِ اہل سُنّت بالخصوص امامِ اہلسنّت ،سیدی اعلیٰحضرت کی برکت سے دعوتِ اسلامی عام ہونے لگی۔

    امیرِ اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کے خوفِ خدا و عشقِ مصطفی عَزَّوَجَلَّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم میں ڈُوبے ہوئے بیانات سُن سُن کر لاکھوں مسلمان نمازی بنے،بے شمار چور ڈاکو زانی شرابی اور دیگر جرائم پیشہ لوگ گناہوں سے توبہ کر کے باکردار مسلمان بن گئے اور لا تعدادکُفّار بھی مشرّف بہ اِسلام ہوئے۔ بابُ المدینہ کراچی سے یہ مدنی تحریک حیدر آباد اور بابُ الاسلام (سندھ) پہنچی اِس کے بعد پنجاب اور پھر سرحد ،کشمیر و بلوچستان میں دعوتِ اسلامی کا مدنی پیغام پہنچا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی اِحْسَانِہٖ اس وقت پاکستان کے کم وبیش ہر شہر میں دعوتِ اسلامی والے موجود ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے امیرِ اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کے اِخلاص و اِستقامت کی برکت اور مدنی قافلوں کے باعث دعوتِ اسلامی پاکستان سے ہِند